حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ ، ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، بلال اظہر کیانی

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔منگل کو سینٹ اجلاس کے دوران سینیٹر عطا الرحمٰن کے توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے گزشتہ سال ایک طویل سیاسی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکس نظام میں توازن برقرار رکھنا اور ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ رواں سال اسے بڑھا کر 12 فیصد کیا گیا ، اس کے باوجود یہ شرح ملک کے دیگر علاقوں میں نافذ 18 فیصد سیلز ٹیکس سے کم اور ترجیحی شرح ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قبل فاٹا، پاٹا اور خیبر پختونخوا کے نمائندوں، متعلقہ سیاسی رہنماؤں اور ایف بی آر حکام کے درمیان تفصیلی مشاورت ہوئی تھی، اس عمل کی قیادت اس وقت رانا ثناء اللہ نے کی جبکہ امیر مقام اور متعلقہ حکام بھی مشاورت میں شریک تھے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فاٹا کے لیے ٹیکس استثنیٰ کا مقصد علاقے کی مخصوص محرومیوں اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے عوام اور کاروبار کو سہولت دینا تھا، تاہم اس استثنیٰ کے غلط استعمال کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف کاروباری نمائندوں اور چیمبرز سے بھی یہ شکایات سامنے آئیں کہ فاٹا اور پاٹا کے نام پر ٹیکس استثنیٰ کا غلط فائدہ اٹھایا گیا اور ایسی اشیا اور کاروبار بھی استثنیٰ میں شامل کیے گئے جن کا تعلق ان علاقوں سے نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ ٹیکس سمیت دیگر معاملات پر حکومت رواں سال بھی سیاسی مشاورت کا عمل جاری رکھے گی اور فاٹا و پاٹا کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں گے۔ فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مختلف کاروباری شعبوں اور متعلقہ نمائندوں سے بھی اس معاملے پر مشاورت کی گئی ، کاروباری طبقے کی جانب سے موجودہ ٹیکس نظام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، ٹیکس استثنیٰ اور دیگر سہولتوں میں مختلف ادوار کے دوران توسیع کی جاتی رہی، تاہم اب اس نظام کا مؤثر اور شفاف جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے شروع کی گئی تھی اور طے کیا گیا تھا کہ ہر سال اس میں 2 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کاروباری طبقے کے تحفظات اور فاٹا و پاٹا کے علاقوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹیکس نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو بھی نقصان نہ پہنچے