ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کا عمل تیز کردیا، یہ ہر پاکستانی کو کرانی ہوگی، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کا عمل تیز کیا جا رہا ہے، ہر پاکستانی کو اپنی سکریننگ کروانا ہوگی، وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کا عمل تیز کیا جا رہا ہے، ہر پاکستانی کو اپنی سکریننگ کروانا ہوگی، وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو میڈیا بریفنگ کے دوران کیا ۔ مصطفیٰ کمال نے خود بھی ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کروایا، جس کا نتیجہ منفی آیا۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے سکریننگ لازمی ہوگی، ٹیسٹ نہ کروانے والے ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، نجی ہسپتالوں کو سکریننگ کے لیے کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہاں بھی شہریوں کی سکریننگ کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کا دائرہ پورے پاکستان تک بڑھایا جائے گا، اس سلسلے میں تمام وفاقی وزارتوں کو مراسلے جاری کیے جا رہے ہیں جن کے تحت وزرا سمیت تمام وزارتوں کے ملازمین کی سکریننگ لازمی قرار دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں، یہ خطرناک بیماری ہے جس کا اکثر دیر سے پتہ چلتا ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کے کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی ادویات مفت فراہم کی جائیں گی اور عوام کو اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی بڑے پیمانے پر سکریننگ کی جائے گی جبکہ ملک میں واپس آنے والے ڈی پورٹ افراد کی سکریننگ بھی لازمی قرار دی گئی ہے، آئندہ تین ماہ تک تمام پروازوں سے آنے والے مسافروں کو بھی سکریننگ کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 12 سال سے زائد عمر کے افراد کی ہیپاٹائٹس سی سکریننگ لازمی قرار دی جائے گی، شناختی کارڈ کے ریکارڈ سے سکریننگ کے عمل کو منسلک کرنے پر بھی کام جاری ہے، بیرونِ ملک سفر سے قبل سکریننگ لازمی قرار دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے سکریننگ کے لیے آلات فراہم کیے گئے ہیں اور مردم شماری کے سافٹ ویئر کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے، اس نظام کو نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی سکریننگ کا مؤثر ڈیٹا تیار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماری ہے اس لیے اس کی بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب سے ہیپاٹائٹس سی سکریننگ کا مطلوبہ ڈیٹا ابھی مکمل طور پر موصول نہیں ہوا، تاہم رابطہ جاری ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ خود وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر کے ہیپاٹائٹس سی سکریننگ کے ڈیٹا اور صوبے میں جاری اقدامات کے حوالے سے بات کریں گے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہیپاٹائٹس سی کی مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور بیماری کی بروقت تشخیص کے لیے اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں