وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہےکہ دریائوں میں سیلابی صورتحال کی پیشگی اطلاع کے حوالے سے ٹیلی میٹرنگ سسٹم کی تنصیب کاکام جاری ہے
دریائوں میں سیلابی صورتحال کی پیشگی اطلاع کے حوالے سے ٹیلی میٹرنگ سسٹم کی تنصیب کاکام جاری ہے، معین وٹو

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہےکہ دریائوں میں سیلابی صورتحال کی پیشگی اطلاع کے حوالے سے ٹیلی میٹرنگ سسٹم کی تنصیب کاکام جاری ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں مختلف نکتہ ہائے اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی پیش بندی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے،یہ تجویز کیاگیا کہ اس حوالے سے پیشگی اطلاع کا سسٹم ہونا چاہیے،ارلی وارننگ سسٹم کے تحت ٹیلی میٹرنگ سسٹم کی تنصیب کی جارہی ہے جس سے براہ راست اطلاعات حاصل کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فیڈرل فلڈ کمیشن کا نمائندہ این ڈی ایم اے کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ میں تھا اب بھی ہفتہ میں دو بار ملاقات کا سلسلہ جاری ہے جہاں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیاجاتا ہے۔قبل ازیں پیپلز پارٹی کے رکن شبیر علی بجارانی نے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے وزارت آبی وسائل کیا اقدامات اٹھارہی ہے؟پولین نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے ورلڈ بنک کا دیاگیا فنڈ سڑکوں کی تعمیر پر لگانے کی بات ہوئی ہے، اس مسئلہ کو حل کیاجائے۔
سید حسین طارق نے کہا کہ سیلاب سے نمٹنے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل یا پالیسی سے آگاہ کیاجائے یا اس معاملہ کو کمیٹی میں زیر بحث لایا جائے۔ملک اسد سکندر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہمارے علاقہ میں 18،18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے،اس کا نوٹس لیاجائے،زرعی فیڈر پر لوڈشیڈنگ ہے صنعتی فیڈر پر نہیں ہے۔اس کے خاتمے کی یقین دہانی کروانے کے باوجود ابھی تک یہی سلسلہ جاری ہے۔کوٹری شہر میں گیس کا بھی مسئلہ ہے،یہ حل کیاجائے۔ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ کے الیکٹرک میں اوور بلنگ زیادہ ہے،گیس کی لوڈشیڈنگ زیادہ ہے،کورئیر کے ذریعے زہریلی ادویات کی سپلائی کا نوٹس لیاجائے،ایم نائن اور ایم ٹن کو دورویہ بنایاجائے،ان چیزوں سے احساس محرومی بڑھتا ہے۔خورشید جونیجو نے کہا کہ شہداد کوٹ سے گھمبٹ تک 2022ء میں سیلاب میں روڈ تباہ ہوئی،اس کے لئے فنڈذ بھی رکھے گئے جو خضدار سیکٹر میں منتقل کردیئے گئے۔یہ معاملہ کمیٹی کو بھیجا جائے۔








