فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے فیصل آباد۔ٹھیلیاں –تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پٹرول اور ڈیزل کی بالائی علاقوں کو فراہمی کیلئے اہم ترین پراجیکٹ قرار دیا ہے
صدر فاروق یوسف شیخ کافیصل آبادٹھیلیاں –تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کا خیر مقدم

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 اگست (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے فیصل آباد۔ٹھیلیاں –تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پٹرول اور ڈیزل کی بالائی علاقوں کو فراہمی کیلئے اہم ترین پراجیکٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 477کلومیٹر طویل توانائی کا یہ منصوبہ فیصل آباد سے شروع ہو کے پشاور کو تیل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے گا۔ یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO)اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے جبکہ اسے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی حمایت بھی حاصل ہے۔ منصوبے پرلاگت کا تخمینہ 431.31 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے اس کی وجہ سے خطرناک آئل ٹینکروں کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کو ایک مؤثر اور جدید ملٹی گریڈ ریفائنڈ فیول پائپ لائن کوریڈور سے تبدیل کیا جا سکے گا۔ فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ پائپ لائن کی مجموعی لمبائی 477 کلومیٹر ہوگی اور یہ عمومی طور پر موٹروے کے متوازی چلے گی۔ اسے فیصل آباد۔ٹھیلیاں اور ٹھیلیاں –تارو جبہ کے دو سیکشن میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کی ابتدائی ترسیلی صلاحیت سالانہ 7 ملین ٹن (MTPA) ہوگی، جسے بعد ازاں 10 ملین ٹن سالانہ تک بڑھایا جا سکے گا۔اس منصوبے کو اٹک ریفائنری، چک پیرانہ اور فقیر آباد کے ساتھ بھی منسلک کیا جائے گا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد لاجسٹکس اور ایندھن کے ترسیلی اخراجات میں کمی لانا، سڑکوں پر ٹریفک اور رش کو کم کرنا، ایندھن میں ملاوٹ کی روک تھام اور ماحولیاتی اخراج میں کمی لانا ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ پہلے سے موجود کراچی۔ فیصل آبادوائٹ آئل پائپ لائن کا نیٹ ورک، پاک عرب پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ (PAPCO) کی ملکیت ہے جو 2005 سے کراچی کو ملتان کے قریب محمود کوٹ تک کامیابی کے ساتھ منسلک کر رہا ہے۔ وہاں سے محمود کوٹ–فیصل آباد پائپ لائن اس نیٹ ورک کو مزید شمال کی جانب توسیع دیتی ہے اور فیصل آباد سے گزرتی ہے۔ دونوں پائپ لائنوں کو ڈیزل اور پٹرول دونوں کی ترسیل کے لیے کامیابی سے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیصل آباد–ٹھیلیاں –تارو جبہ منصوبہ موجودہ پائپ لائن نظام کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ ایک بالکل نیا توسیعی منصوبہ ہے جو موجودہ پائپ لائن کے اختتامی مقام سے آگے نیٹ ورک کو مزید شمال کی جانب توسیع دے گا۔
یوں یہ پورا پائپ لائن نیٹ ورک ایک مسلسل اور مربوط توانائی ترسیلی نظام کے طور پر کام کرے گاجسے دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔








