اقوامِ متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صرف تین فیصد زرعی زمین قابلِ رسائی اور نقصان سے محفوظ ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے
غزہ کی صرف تین فیصد زرعی زمین قابلِ رسائی اور نقصان سے محفوظ ہے،اقوام متحدہ
روم۔19اگست (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صرف تین فیصد زرعی زمین قابلِ رسائی اور نقصان سے محفوظ ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہوئی تب سے قابلِ رسائی اور غیر تباہ شدہ فصلوں کا رقبہ 601 ہیکٹر سے کم ہو کر 448 ہیکٹر رہ گیا جو پہلے کی نسبت 25.5 فیصد کم ہے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے کہا کہ مزید 3,643 ہیکٹر کھیتی قابلِ رسائی ہے لیکن اسے اتنا زیادہ نقصان پہنچا ہے کہ بحالی کے بغیر کاشت ممکن نہیں۔ ادارے کے شعبہ برائے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر رین پالسن نے کہاکہ محفوظ رسائی بحال کرنے اور کسانوں کو ان کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے بغیر مقامی خوراک کی پیداوار بحال کرنے کے مواقع معدوم ہوتے رہیں گے، بحالی میں زرعی سامان کی درآمد پر پابندیاں بھی حائل ہو رہی ہیں اور مویشی پالنے والے لوگ جانوروں کی خوراک اور ادویات حاصل کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔ گرین ہاؤس (سبزہ خانہ) کی دستیابی میں بھی کمی آئی ہے اور اکتوبر 2025 سے 17.3 فیصد گر کر یہ اب تک 224 ہیکٹر رہ گئی ہے جو قابلِ رسائی اور نقصان سے محفوظ ہو۔ ایف اے او نے کہا کہ جنگ بندی کے علاقے کو اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ علاقے سے الگ کرنے والی نام نہاد ’’زرد لکیر‘‘ کے مغرب کی طرف پھیلاؤ کو کم رسائی کی وضاحت بنیادی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایف اے او کے مطابق اکتوبر 2023 سے پہلے غزہ کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً 10 فیصد تھا اور یہ 560,000 سے زیادہ لوگوں کی روزی فراہم کرتی تھی








