وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے قائداعظمؒ کی نایاب تصویری نمائش کا افتتاح کر دیا

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی نیشنل آرٹ گیلری میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی اور بطور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل سرکاری مصروفیات پر مبنی نایاب اور تاریخی تصویری نمائش ’’قائداعظم: پاکستان کے پہلے گورنر جنرل 1947ء–1948ء‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی نیشنل آرٹ گیلری میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی اور بطور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل سرکاری مصروفیات پر مبنی نایاب اور تاریخی تصویری نمائش ’’قائداعظم: پاکستان کے پہلے گورنر جنرل 1947ء–1948ء‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش میں قائداعظمؒ کے سرکاری فوٹوگرافر ضیاء الدین برنی کے کیمرے سے محفوظ نایاب تاریخی لمحات پیش کئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے نمائش کا افتتاح کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے محمد ایوب جمالی نے اس نمائش کی سرپرستی کی۔

یہ نمائش پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے حوالے سے پی این سی اے کی خصوصی تقریبات کا حصہ ہے۔یہ نمائش پہلی مرتبہ 2023ء میں کراچی کے موہٹہ پیلس میوزیم میں ڈان میڈیا کے اشتراک سے پیش کی گئی تھی جسے عبدالحمید اخوند اور حامد ہارون نے کیوریٹ کیا تھا۔ نیشنل آرٹ گیلری، پی این سی اے میں موجودہ نمائش کی کیوریٹر مریم احمد ہیں۔نمائش میں قائداعظمؒ کی زندگی کے ابتدائی اور انتہائی اہم دور کی ایک نایاب بصری تاریخ پیش کی گئی ہے۔ ضیاء الدین برنی جنہیں قائداعظمؒ کا سرکاری فوٹوگرافر تصور کیا جاتا ہے، نے بابائے قوم کے متعدد سرکاری دوروں، اجلاسوں، تقریبات اور اہم مواقع کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ ان تصاویر کے ذریعے پاکستان کے قیام کے بعد کے ابتدائی دور کے تاریخی حالات اور قائداعظمؒ کی قائدانہ شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔نمائش میں قائداعظمؒ کے آخری ایام، انتقال اور ستمبر 1948ء میں ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے مواقع کی انتہائی اہم اور جذباتی تصاویر بھی شامل ہیں جو پاکستان کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے کا قیمتی بصری ریکارڈ ہیں۔

نمائش میں پیش کی گئی تصاویر ضیاء الدین برنی کے ذاتی ذخیرے کے صرف ایک حصے پر مشتمل ہیں جسے ان کے خاندان بالخصوص ان کی پوتی زرین باقر نے محفوظ رکھا۔ قومی آرکائیوز میں محفوظ بعض دیگر تصاویر کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ضیاء الدین برنی کی عکاسی کا حصہ ہیں۔یہ تصاویر محض تاریخی دستاویزات نہیں بلکہ قائداعظمؒ کی شخصیت کا ایک انسانی اور متحرک پہلو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ ان میں قیادت، عوامی خدمت، لوگوں سے میل جول، مصروفیات اور غوروفکر کے مختلف لمحات محفوظ ہیں جو ناظرین کو قائداعظمؒ کی معروف علامتی تصویر سے آگے بڑھ کر ان کی شخصیت اور کردار کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ نمائش کے افتتاح کے موقع پر وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی نایاب تصاویر محض تاریخ کا ریکارڈ نہیں بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے ایک طاقتور پیغام بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر قوم کو اس عظیم جدوجہد، عزم، محنت اور قربانیوں کی یاد دلاتی ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ سے بامعنی اور بصری انداز میں جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تاریخی مواد کو محفوظ بنانے اور نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظمؒ کی زندگی قیادت، عزم، خدمت اور ثابت قدمی جیسے اصولوں کی عملی مثال ہے جنہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔پی این سی اے، نیشنل آرٹ گیلری نے فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد، مؤرخین، محققین، طلبہ، فوٹوگرافرز اور عام شہریوں کو نمائش دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ یہ نمائش نہ صرف بانی پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے بلکہ اس امر کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ ماضی کی جدوجہد اور کامیابیوں کو سمجھنا ایک مضبوط، باخبر اور باشعور مستقبل کی تعمیر کے لئے ناگزیر ہے۔نمائش 30 ستمبر 2026ء تک نیشنل آرٹ گیلری، پی این سی اے، اسلام آباد کے گیلری نمبر 1 اور گرینڈ ہال میں صبح 10 بجے تا شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔