الشِفا ٹرسٹ کے ہسپتالوں میں ایک سال کے دوران 12 لاکھ 67 ہزار مریضوں کا علاج

الشِفا ٹرسٹ کے سات آنکھوں کے ہسپتالوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران 12 لاکھ 67 ہزار 657 سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کیں، جبکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر راولپنڈی ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضان (او پی ڈی) کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

راولپنڈی۔ 21 اگست (اے پی پی):الشِفا ٹرسٹ کے سات آنکھوں کے ہسپتالوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران 12 لاکھ 67 ہزار 657 سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کیں، جبکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر راولپنڈی ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضان (او پی ڈی) کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جس کے بعد یومیہ مریضوں کی گنجائش 5 ہزار تک پہنچ جائے گی۔الشِفا ٹرسٹ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام کے تحت 6 لاکھ 64 ہزار 668 افراد کے آنکھوں کے معائنے اور طبی کیمپوں کے ذریعے اسکریننگ کی گئی، جبکہ 37 ہزار 739 افراد میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی اسکریننگ بھی کی گئی تاکہ بینائی متاثر کرنے والی بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔ٹرسٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث راولپنڈی ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضان کو وسعت دی جا رہی ہے۔

آمدن پیدا کرنے کے مقصد سے تعمیر کیے گئے ایک ٹاور کو جدید سہولیات سے آراستہ او پی ڈی-3 میں تبدیل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ نیا او پی ڈی روزانہ مزید 800 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرے گا، جس کے بعد ہسپتال کی مجموعی او پی ڈی گنجائش 5 ہزار مریض یومیہ ہو جائے گی۔ او پی ڈی-3 کے قیام سے او پی ڈی-1 اور او پی ڈی-2 پر مریضوں کا دباؤ کم ہوگا۔میجر جنرل (ر) رحمت خان نے کہا کہ الشِفا ٹرسٹ کی پالیسی ’’سب کے لیے مفت علاج، عزت و وقار کے ساتھ‘‘ کے تحت ایسے افراد کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ٹرسٹ کے ہسپتالوں میں 55 ہزار 314 موتیا کے آپریشن کیے گئے جبکہ 784 قرنیہ کی پیوند کاری کے آپریشن بھی انجام دیے گئے۔ ماہرین نے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچورٹی (آر او پی) کے 1,548 کیسز کا بھی علاج کیا، جس سے بچوں کو قابلِ تلافی بینائی سے محرومی سے بچانے میں مدد ملی۔ٹرسٹ کے صدر کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 5 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ آئندہ مالی سال میں خدمات جاری رکھنے، طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے، آؤٹ ریچ پروگراموں کو وسعت دینے اور بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 6 ارب روپے درکار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ الشِفا لاہور آئی ہسپتال کی تکمیل سے مریضوں کا بوجھ تقسیم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئٹہ میں بھی ایک بڑے آنکھوں کے ہسپتال کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔میجر جنرل (ر) رحمت خان نے کہا کہ الشِفا ٹرسٹ کی طبی خدمات پاکستانی عوام خصوصاً بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے عطیات اور تعاون سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نابینا پن کا چیلنج بہت بڑا ہے، اس لیے معاشرے، مخیر حضرات اور انفرادی عطیہ دہندگان کو اس مقصد کے لیے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔