وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ شاعر اور ادیب معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ادبی تقریبات معاشرے کی فکری اور تہذیبی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔وہ جمعہ کو اکادمی ادبیات پاکستان میں مزاح نگار ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی کلیاتِ مزاحیہ شاعری کی تقریبِ پذیرائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
شاعر اور ادیب معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ شاعر اور ادیب معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ادبی تقریبات معاشرے کی فکری اور تہذیبی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔وہ جمعہ کو اکادمی ادبیات پاکستان میں مزاح نگار ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی کلیاتِ مزاحیہ شاعری کی تقریبِ پذیرائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کا اہتمام بزمِ ادب اسلام آباد نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے کیا تھا جس میں ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ایسی ادبی تقریبات معاشرے کی فکری و تہذیبی بہتری اور ادبی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ادب برائے زندگی کے تصور کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کو قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ذیلی اداروں کا ایک اہم اور خوبصورت گلدستہ قرار دیا۔انہوں نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو ان کی کلیات کی اشاعت پر مبارکباد اوربزمِ ادب اور اکادمی ادبیات کو ادبی تقریب کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کے مہمانِ اعزاز سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو شائستہ مزاج اور منفرد مزاح نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں تنوع، طنز اور معاشرتی مشاہدہ نمایاں ہے۔
انہوں نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی انتظامی صلاحیتوں کو بھی سراہا۔سید طاہر شہباز نے کہا کہ تصنیف اپنے مصنف کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے پیشہ وارانہ اور ادبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی نو کتابوں پر مشتمل کلیات کو ’’نو رنگوں کی قوسِ قزح قرار دیا۔صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو کلیات کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی مزاح وہی شاعر تخلیق کرسکتا ہے جو معاشرتی درد اور جبر کو محسوس کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شاعری میں مزاح کے ساتھ معاشرتی شعور اور انسانی احساس بھی نمایاں ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ مزاح زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا ایک قرینہ ہے اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شاعری کا سرچشمہ زندگی کا گہرا مطالعہ اور وسیع مشاہدہ ہے۔ انہوں نے مزاح اور مذاق کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کلیات کو ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی ادبی زندگی کے مختلف رنگوں کا مجموعہ قرار دیا۔بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر صفدر علی شاہ نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی زبان پر گرفت، شائستگی اور بے باکی کو ان کی نمایاں خصوصیات قرار دیا،
جبکہ ڈاکٹر سید راغب علی نے کلیات میں شامل منتخب اشعار پیش کرتے ہوئے ان کی مزاحیہ شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر امجد علی بھٹی نے بھی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شخصیت اور ادبی خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اپنی ابتدائی دور کی شاعری اور کلیات میں شامل منتخب اشعار پیش کیے اور تقریب کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔







