قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا اپنے اپنے آئینی کردار کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پارلیمانی جمہوریت، اختیارات کی تقسیم اور آئینی حکمرانی کے اصولوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا اپنے اپنے آئینی کردار کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے۔

اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پارلیمانی جمہوریت، اختیارات کی تقسیم اور آئینی حکمرانی کے اصولوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا اپنے اپنے آئینی کردار کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے۔شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے سول سروسز اکیڈمی لاہور میں 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے زیر تربیت افسران کے وفد سے سپریم کورٹ میں ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ نے کی جبکہ فیکلٹی ارکان بھی وفد کے ہمراہ تھے۔

ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے پارلیمانی جمہوریت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالی اور آئینی حکمرانی و قانون کی حکمرانی کے قیام میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے باہمی تکمیلی کردار کی وضاحت کی۔چیف جسٹس نے افسران کو عدالتی نظام کے مختلف درجات اور مختلف عدالتوں کے دائرہ اختیار سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے ادارہ جاتی تعاون اور شعبہ انصاف میں اصلاحات کے حوالے سے قومی جوڈیشل (پالیسی ساز) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور اسے اعلیٰ ترین عدالتی پالیسی فورم قرار دیا۔وفد کو عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولت میں بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ان اقدامات میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی، ای لائبریریوں، صاف پینے کے پانی اور خواتین سائلین کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی شامل ہے، جنہیں رسائیِ انصاف ترقیاتی فنڈ کے ذریعے معاونت حاصل ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ 27 ۔ 2026 کو صنفی لحاظ سے حساس انصاف کے اقدام کے سال کے طور پر مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت خواتین کی سہولت کے مراکز کے قیام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان مراکز کا مقصد خواتین سائلین کو ایک ہی چھت تلے ضروری سہولت اور معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انصاف تک رسائی کو مزید آسان، جامع اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے عدلیہ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ملاقات کے دوران مستقبل کی سول سروس قیادت کے ساتھ سپریم کورٹ کے مسلسل رابطے، آئینی حکمرانی، ادارہ جاتی تعاون، شہری مرکز انصاف اصلاحات اور عوامی خدمت کو مؤثر اور ذمہ دار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں