پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے خون اور وسائل کی مسلسل بے مثال قربانیاں پیش کررہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا دہشت گردی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن کے موقع پر بیان

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے خون اور وسائل کی مسلسل بے مثال قربانیاں پیش کررہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا دہشت گردی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن کے موقع پر بیان

اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے خون اور وسائل کی مسلسل بے مثال قربانیاں پیش کررہا ہے، پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کے خلاف جنگ لڑنے کے اپنے عزم میں غیر متزلزل اور اپنی وابستگی میں ثابت قدم ہے۔ جمعہ کو دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کی اقوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا عالمی دن منارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن محض ایک رسمی تقریب کا دن نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں اور متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے ادا کی جانے والی بھاری قیمت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اس کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ دن ہمیں اس عالمی چیلنج کے خلاف مسلسل چوکس رہنے اور پُرعزم جدوجہد کے اپنے غیر متزلزل عزم پر غور کرنے اور اسے مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے خون اور وسائل کی مسلسل بے مثال قربانیاں پیش کررہا ہے اور یہ جدوجہد صرف اپنے عوام ہی نہیں بلکہ خطے اور اس سے باہر بھی امن و سلامتی کے لئے ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اب کئی جہتوں پر مشتمل خطرہ بن چکی ہے جہاں دہشت گرد زیادہ پیچیدہ اور مہلک حملوں کے لئے اپنی رسائی بڑھانے کی غرض سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سائبر اسپیس کا استعمال کررہے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کو گمراہ کن اور جھوٹی معلومات پر مبنی مہم، ہائیڈرو ٹیررازم اور ماورائے علاقائی ٹارگٹ کلنگ کی مہمات کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 پاکستان کے لئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران خونریز ترین برسوں میں شامل رہا ہے، بڑھتے ہوئے جانی نقصان کے پسِ پشت تشدد کا ایک واقف اور انتہائی سنگین نمونہ کارفرما ہے جس کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ہدایات سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانوں سے کی جاتی ہیں جبکہ اکثر پڑوسی ممالک کے دشمن عناصر بھی اس میں معاونت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ان کارروائیوں میں نمازیوں، بچوں، خواتین اور سکیورٹی اہلکاروں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کے خلاف جنگ لڑنے کے اپنے عزم میں غیر متزلزل اور اپنی وابستگی میں ثابت قدم ہے، اس دن ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو مسلسل منظم ریاستی جبر کا سامنا کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس جبر میں سخت گیر قوانین، جبری گمشدگیاں اور من مانی گرفتاریاں شامل ہیں جبکہ ریاستی سرپرستی میں جاری یہ مہم دہشت گردی کی ہر تعریف پر پورا اترتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں پر محیط جبر اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کے اپنے مطالبے پر ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے عوام بھی ہماری سوچ اور دعاؤں میں شامل ہیں، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اگرچہ کچھ انسانی امداد کی گنجائش پیدا ہوئی ہے تاہم فلسطینی عوام بالخصوص بچے، خواتین اور بزرگ بدستور ناقابلِ بیان انسانی حقوق کی پامالیوں اور حقِ خود ارادیت سے محرومی کا شکار ہیں، اس تناظر میں ماضی کے عالمی تجربات آج بھی ہمارے لئے اہم سبق رکھتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ غیر ملکی قبضہ، حل طلب تنازعات اور حقِ خود ارادیت سے محرومی کو انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے تدارک کے لئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین اور اس سے بچ جانے والے افراد کی بلاامتیاز حمایت کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون اور مکالمے کو معروضی، غیر جانبدار، مستقل اور منصفانہ انداز میں کسی دوہرے معیار کے بغیر مزید فروغ دیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ایک زیادہ پُرامن دنیا کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید خبریں