ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے زیر اہتمام ورکشاپ،پیشگی اقدامات اور وارننگ نظام مضبوط بنانے پر زور

ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے زیر اہتمام موسمی و قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو وسعت دے کر پائیداری اور لچک پیدا کرنا کے موضوع پر ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان کے متعلقہ سرکاری محکموں، اقوام متحدہ کے اداروں، تکنیکی شراکت داروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

کوئٹہ۔ 21 اگست (اے پی پی):ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے زیر اہتمام موسمی و قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو وسعت دے کر پائیداری اور لچک پیدا کرنا کے موضوع پر ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان کے متعلقہ سرکاری محکموں، اقوام متحدہ کے اداروں، تکنیکی شراکت داروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

ورکشاپ کا مقصد بلوچستان میں پیشگی اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے ممکنہ اثرات سے قبل بروقت اقدامات اٹھا کر جانی و مالی نقصان کو کم اور صوبے میں موسمیاتی لچک کو فروغ دیا جا سکے۔ورکشاپ کے دوران محکمہ ماحولیات کی جانب سے موسمیاتی پالیسی سازی، ایرلی وارننگ سسٹم ، موسمیاتی خطرات کی نشاندہی، بین المحکمہ جاتی رابطہ کاری، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی لچک کے فروغ میں محکمہ کے کردار اور ترجیحات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار صوبے میں ایرلی وارننگ سسٹمزاور پیشگی اقدامات کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس مقصد کیلئے محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے، ادارہ تحفظ ماحولیات، محکمہ زراعت، آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور معلومات کا بروقت تبادلہ ناگزیر ہے۔ورکشاپ کے دوران پی ڈی ایم اے،ایف اے او،پی ایم ڈی ،ڈبلیو ایف پی اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندگان کے درمیان مفید اور تعمیری تبادلہ خیال بھی ہوا۔ شرکا نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے روایتی ردعمل کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی، بروقت انتباہ، خطرات کی بنیاد پر فیصلہ سازی اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔