طالبان رجیم کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزاحمتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی، جس نے مختلف صوبوں میں طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کو نمایاں کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان فریڈم فرنٹ ( اے ایف ایف)، این آر ایف اور اے یو ایف نے بغلان، کندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں ٹارگٹڈ حملے اور براہ راست جھڑپیں کیں، جن میں طالبان کے فوجی مراکز، سکیورٹی …
افغانستان بھر میں مزاحمت میں تیزی، طالبان رجیم کا کمزور ہوتا کنٹرول

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):طالبان رجیم کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزاحمتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی، جس نے مختلف صوبوں میں طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کو نمایاں کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان فریڈم فرنٹ ( اے ایف ایف)، این آر ایف اور اے یو ایف نے بغلان، کندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں ٹارگٹڈ حملے اور براہ راست جھڑپیں کیں، جن میں طالبان کے فوجی مراکز، سکیورٹی چوکیوں، پوزیشنوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
16 اگست کو این آر ایف نے بغلان کے ضلع فیرنگ میں طالبان کو نشانہ بنایا، جس میں 1 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ 15 اگست کو کندوز میں طالبان کے ساتویں پولیس زون پر حملے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور ایک فوجی گاڑی تباہ ہوئی۔ 16 اگست کو AFF نے بدخشان کے زیبک میں طالبان پوزیشنوں پر حملہ کیا، جس میں 6 طالبان ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان کو کئی مقامات سے پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بعض پوزیشنیں اور مورچے فرنٹ کے قبضے میں آگئے۔
20 اگست کو زیبک میں دوبارہ حملہ ہوا، جہاں 3 گھنٹے 30 منٹ تک جاری رہنے والی جھڑپ میں 6 طالبان ہلاک اور کم از کم 10 زخمی ہوئے، جبکہ طالبان کی جانب سے مورچے واپس لینے کی متعدد کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔19 اگست کو فیض آباد میں طالبان گورنر دفتر اور سکیورٹی چوکی پر افغان فریڈم فرنٹ کے راکٹ حملے کے بعد تقریباً 30 منٹ جھڑپ جاری رہی، جس میں 4 طالبان ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ 18 اگست کو اے یو ایف نے لشکرگاہ میں کارروائی کرتے ہوئے 4 طالبان ہلاک اور ایک رینجر گاڑی تباہ کی، جبکہ 19 اگست کو قندھار میں طالبان کے 205 کور کے فوجی مرکز کے داخلی راستے پر حملے میں 5 طالبان ہلاک، 3 زخمی اور ایک فوجی گاڑی تباہ ہوئی۔
ایک ہفتے میں کم از کم 29 طالبان اہلکار ہلاک، 28 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ بغلان، کندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار تک مزاحمت کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ پانچ سال بعد بھی طالبان رجیم مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے، مگر بڑھتے حملے، پسپائیاں اور مسلسل جھڑپیں اس دعوے کی حقیقت عیاں کر رہی ہیں۔ عوامی بے چینی، مسلح مزاحمت اور طالبان رجیم کی جابرانہ اور غیر جوابدہ حکمرانی کے خلاف بڑھتی مخالفت اس کے کنٹرول کو مزید کمزور کر رہی ہے۔








