"خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور اربوں روپے کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، شفیع اللہ جان”
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا معاملہ اٹھایا گیا

مزید خبریں
پشاور۔ 21 اگست (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی رکن شفیع اللہ جان نے نکتۂ اعتراض پر اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے والے پاکستانی ملک کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں اور اربوں روپے کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں تاہم گزشتہ کئی ماہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچتے ہیں تو بعض اوقات ویزے میں خرابی کا جواز بنا کر انہیں آف لوڈ کردیا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان اور اس کے بچوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ معاملہ سفارتی سطح پر متعلقہ ممالک کے ساتھ اٹھائے اور اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل تلاش کرے۔رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم نے کہا کہ دوبئی میں اقامے کی تجدید کے لیے دستاویزات جمع کرانے کے باوجود بعض افراد کے اقامے منسوخ کردیئے جاتے ہیں جبکہ دبئی اور سعودی عرب سے پاسپورٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے والے بعض افراد کو ویری فکیشن کے مرحلے میں ڈال دیا جاتا ہے، جس کا عمل برسوں تک مکمل نہیں ہوتا۔جے یو آئی رکن عدنان خان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے چھٹیاں گزارنے کے لیے پاکستان آنے والے بعض افراد کے ویزے بھی ختم کردیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے متعلق ہے، جہاں بعض افراد کے پاسپورٹ بلاوجہ بلاک کردیئے جاتے ہیں تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر رابطہ کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر اس حوالے سے مشترکہ قرارداد لانے کی ہدایت کردی۔








