وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے،سید مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے، اس سلسلے میں وزارتِ صحت کے تمام ملازمین، وزیر سے لے کر آفس بوائے تک کے لئے ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے، اس سلسلے میں وزارتِ صحت کے تمام ملازمین، وزیر سے لے کر آفس بوائے تک کے لئے ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ جاری بیان کے مطابق وزارتِ صحت کے تمام اداروں اور وفاقی وزارتوں کو بھی خطوط ارسال کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کے تمام ملازمین کی سکریننگ مکمل کی جائے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ اسلام آباد سے اس قومی پروگرام کا آغاز اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ پورے پاکستان کے لئے ہے۔ اسلام آباد میں اس وقت سرکاری سطح پر 17 سکریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ نجی ہسپتالوں کے مالکان سے بھی ملاقاتیں کی گئی ہیں تاکہ ان کے ہسپتالوں میں حکومت کی جانب سے سکریننگ کا سامان اور آلات فراہم کئے جائیں گے اور ان کے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مفت سکریننگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ملک بھر کے 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ کرنا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے بھی کٹس اور ضروری آلات کا انتظام کر لیا گیا ہے اور وہاں جلد سکریننگ کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ صوبے بھی بتدریج اس قومی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم داخلی و خارجی مقامات پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد کی سکریننگ کی جا رہی ہے ،آئندہ دو سے تین ماہ میں اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مردم شماری کے لئے استعمال ہونے والے جدید آلات سے استفادہ کیا جا رہا ہےجبکہ سکریننگ کا تمام ڈیٹا ڈیجیٹل اور ریئل ٹائم بنیادوں پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا سے منسلک ہوگا جس کے نتیجے میں ہر فرد کی سکریننگ کی معلومات مستقبل میں بھی دستیاب رہیں گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں تاہم پورے ملک کی سکریننگ مکمل ہونے کے بعد ہی بیماری سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد سامنے آ سکے گی۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیریئرز کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس بیماری کے خاتمے کے لئے بڑے پیمانے پر سکریننگ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش اور خطرناک بیماری ہے جس کا اکثر دیر سے پتہ چلتا ہے، بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور بالآخر جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے تاہم اگر بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو اس کا مؤثر اور مکمل علاج ممکن ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومتِ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو تین ماہ کے علاج کی دوا بالکل مفت فراہم کر رہی ہے جس کی مالیت تقریباً 34 ہزار روپے ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو علاج کا دوسرا کورس بھی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے یعنی ایک مریض کو تقریباً 68 ہزار روپے تک کی ادویات بھی حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جائے گی اسی طرح سکریننگ ٹیسٹ بھی عوام کے لئے مکمل طور پر مفت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے خود بھی ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کرائی ہے اور الحمدللہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ قریبی سکریننگ سینٹر جائیں اور صرف چند منٹ میں اپنا ٹیسٹ کرائیں۔ والدین اپنے 12 سال سے زائد عمر کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی بھی سکریننگ ضرور کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کی بروقت تشخیص نہ صرف فرد بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے عوام کو سکریننگ اور علاج کی سہولت مفت فراہم کر دی ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ اسلام آباد کے شہری سکریننگ سینٹرز پر آئیں، اپنا ٹیسٹ کرائیں اور ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی قومی مہم میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ایک صحت مند پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔