جنرل ہسپتال انتظامیہ نے ادویات چوری پر 3ملازمین کومعطل کر کے مقدمہ درج کرا دیا

"جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ سے ادویات چوری کے واقعہ میں ملوث ملازمین کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی، انتظامیہ”

لاہور۔22اگست (اے پی پی):جنرل ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی وارڈ سے ادویات چوری کے واقعہ پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ملوث ملازمین کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا جبکہ ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کو پیش کر دی ہے۔

ادویات چوری میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے میاں حامد ندیم، محمد سعد اللہ ظفر فارمیسی ٹیکنیشن اور راشد وارڈ اٹینڈنٹ کو ملازمت سے معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔ ڈی ایم ایس ایمرجنسی ڈاکٹر محمد تنویر کو سرکاری فرائض میں عدم دلچسپی پر وارننگ جاری کرتے ہوئے نگرانی مزید موثر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا ہے کہ ادویات کے ریکارڈ کی مکمل اور شفاف پڑتال کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ تمام معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا سکے۔پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے واضح کیا کہ جنرل ہسپتال میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور مریضوں کی ادویات میں خیانت کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ انتظامی ڈاکٹرز کو ادویات کی خرید، وصولی، ریکارڈ اور ترسیل کے تمام نظام کی مانیٹرنگ مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ہسپتال میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔