"فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، شہباز شریف”
فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم شہبازشریف

مزید خبریں
لاہور۔22اگست (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر قسم کی معاونت کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئےکسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنانے اور زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہفتہ کو منعقد ہوا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کی کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے سرٹیفائیڈ کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کیلئے جامع پلان مرتب کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔ چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلباء و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے رواں سال چین میں زرعی شعبے کی تربیت کیلئے جانے والے طلباء و طالبات کے انتخاب میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دینے اور نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے حکم دیا کہ نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کیلئے اقدامات پر عملدرآمد پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تمام سٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کیلئے ایک جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔ منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعدادِ کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔ متعدد قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔ اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کیلئے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کیلئے بھی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اجلاس کو این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے 7 اضلاع میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کیلئے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کیلئے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی۔ وزیرِ اعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔







