فرانس کے ٹینس کھلاڑی آرتھر فلز نے سینسناٹی اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا۔ ای ایس پی این کے مطابق 22 سالہ فرانسیسی کھلاڑی آرتھر فلز نے مردوں کے سنگلز مقابلوں کے فائنل میچ میں امریکی حریف کھلاڑی فرانسس ٹیافو کو شکست دے کراپنا پہلا ماسٹرز 1000 ٹائٹل جیت لیا
آرتھر فلز نے فرانسس ٹیافو کو شکست دے کر پہلا ماسٹرز 1000 ٹائٹل جیت لیا
اوہائیو ۔24اگست (اے پی پی):فرانس کے ٹینس کھلاڑی آرتھر فلز نے سینسناٹی اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا۔ ای ایس پی این کے مطابق 22 سالہ فرانسیسی کھلاڑی آرتھر فلز نے مردوں کے سنگلز مقابلوں کے فائنل میچ میں امریکی حریف کھلاڑی فرانسس ٹیافو کو شکست دے کراپنا پہلا ماسٹرز 1000 ٹائٹل جیت لیا۔اے ٹی پی ماسٹرز 1000 کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب دو سیاہ فام کھلاڑی فائنل میں آمنے سامنے آئے۔ اس کامیابی کے ساتھ 22 سالہ آرتھر فلز بن شیلٹن اور جو ولفرئیڈ سونگا کے بعد ماسٹرز 1000 ٹائٹل جیتنے والے تیسرے سیاہ فام ٹینس کھلاڑی بن گئے ہیں۔ وہ اس ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ماسٹرز 1000 جیتنے والے سب سے کم عمر فرانسیسی کھلاڑی بھی بن گئے ہیں جبکہ 1991 میں گائے فورگیٹ کے بعد سینسناٹی اوپن کا فائنل جیتنے والے دوسرے فرانسیسی فائنلسٹ بنے ہیں۔میچ کے پہلے سیٹ میں آرتھرفلز نے شاندار آغاز کرتے ہوئے پہلے 13 میں سے 12 پوائنٹس حاصل کر کے 0-3 کی برتری حاصل کی اور سیٹ اپنے نام کیا۔ دوسرے سیٹ میں فرانسس ٹیافو نے زبردست کم بیک کرتے ہوئے 0-3 کی برتری بنائی اور سیٹ جیت کر مقابلہ برابر کر دیا۔ تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ سے قبل فرانسس ٹیافو نے طبی امداد بھی لی، تاہم آرتھرفلز نے تیسرے سیٹ میں مکمل تسلط قائم رکھتے ہوئے 0-6 سے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ ٹرافی بھی اپنے نام کر لی۔ آرتھر فلز کی فتح کا سکور 3-6، 6-1 اور 0-6 رہا۔فرانسس ٹیافو کو مسلسل دوسری بار سینسناٹی اوپن کے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے قبل 2024 میں انہیں اٹلی کے ٹینس سٹار جینک سنر نے شکست دی تھی۔آرتھرفلز نے میچ کے دوران 11 ایسز لگائے اور اپنی پہلی سروس پر 71 فیصد پوائنٹس حاصل کیے۔ اس کامیابی کے بعد وہ اس سال فیصلہ کن سیٹس میں 0-10 کے شاندار ریکارڈ کے مالک بن گئے ہیں جبکہ امریکی حریفوں کے خلاف ان کا ریکارڈ 0-8 ہو گیا ہے۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے آرتھر فلز نے کہا کہ وہ یہ ٹائٹل جیت کر انتہائی خوش ہیں کیونکہ گزشتہ سال ان کے لیے کافی مشکل رہا تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا کیریئر ختم ہو چکا ہے، تاہم اس فتح سے انہیں آنے والے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے لیے کافی اعتماد ملے گا۔









