پاکستان میں سیاحت کا شعبہ 4.73 ملین افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں شعبہ کی شراکت داری 5.8 فیصد ہے۔
پاکستان میں سیاحت کا شعبہ 4.73 ملین افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے،جی ڈی پی میں شعبہ کی شراکت داری 5.8 فیصد ہے، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):پاکستان میں سیاحت کا شعبہ 4.73 ملین افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں شعبہ کی شراکت داری 5.8 فیصد ہے۔
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کے سیاحت کے شعبہ نے 97 ہزار 500 غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کیا جو استعداد سے کم ہے۔ دنیا کی 8 ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے 5 بلند ترین چوٹیاں پاکستان میں واقع ہیں۔ مزید برآں ملک میں طویل ساحل، صحرا، دریائی وادیاں اور دیگر تاریخی مقامات بھی بھرپور سیاحتی استعداد کے حامل ہیں۔ ڈبلیو ٹی ٹی سی کے مطابق گلگت بلتستان پولیس کے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں علاقہ میں 21 ہزار 862 بین الاقوامی سیاح آئے جبکہ مقامی سیاحوں کی تعداد 4 لاکھ 86 ہزار 571 رہی ۔ رپورٹ کے مطابق 2023 کے مقابلہ میں 2024 کے دوران گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 121 فیصد جبکہ مقامی سیاحوں کی تعداد میں 114 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ علاقہ میں مقامی اور بین الاقوامی سیاحت میں اضافہ کا بنیادی سبب سکردو ایئر پورٹ سے فضائی سفر کی سہولیات میں بہتری ہے۔
واضح رہے کہ بہتر فضائی سہولیات کے نتیجہ میں کے ٹو، براڈ ہیک اور دیگر گلیشئرز تک رسائی کےلئے دوران سال 15 ہزار 600 غیر ملکی سیاحوں نے علاقہ کا سفر کیا۔ ڈبلیو ٹی ٹی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2023 کے دوران پاکستان کی سیاحت کے شعبہ سے 4.73 ملین افراد دکا روزگار منسلک تھا جبکہ جی ڈی پی میں شعبہ کا حصہ 5.8 فیصد یعنی 19.8 ارب ڈالر رہا۔ سیاحت و سفر کی عالمی کونسل نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبہ کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس حوالے سے شمالی علاقوں سمیت طویل ساحلی علاقوں ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف ثقافتی اور تاریخی مقامات تک رسائی کے بنیادی ڈھانچہ اور وہاں پر تفریحی اور رہائشی سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف مقامی سیاحوں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کو بڑی تعداد میں راغب کیا جاسکتا ہے۔ سیاحت کے شعبہ کی ترقی سے نہ صرف روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے میں سہولت ہوگی بلکہ بے روزگاری پر قابو پانے اور قومی معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملےگی۔








