وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس، سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی
پشاور۔ 24 اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 سے اب تک سرکاری ملازمین کے خلاف مجموعی طور پر 827 کیسز سامنے آئے، جن میں سے 629 کیسز کے فیصلے ہوچکے ہیں جبکہ 198 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔سی ایم سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق فیصلہ شدہ 629 کیسز میں 589 افسران و اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں جبکہ 40 ملازمین کو بری کیا گیا۔ احتسابی کارروائیوں کے نتیجے میں 128 ملازمین کو سروس سے فارغ، 18 کو ڈسمس فرام سروس اور 6 کو جبری ریٹائر کیا گیا۔ اسی طرح 2 ملازمین کی تنزلی، ایک کی گرفتاری، 89 کی تنخواہوں سے ریکوری اور 39 کی ترقی روکنے کی کارروائی کی گئی۔مزید بتایا گیا کہ 16 ملازمین کو چارج شیٹ، 14 کی تنخواہوں میں کٹوتی اور 10 کو معطل کیا گیا، جبکہ 155 ملازمین کو وارننگ اور 52 کو سرزنش کی گئی۔بریفنگ کے مطابق سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیوں میں غیر مجاز غیر حاضری سب سے بڑا جرم سامنے آیا، جس کے 447 کیسز رپورٹ ہوئے جو مجموعی کیسز کا تقریباً 54 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی میں غفلت کے 120، کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے 75، نااہلی کے 75، بدسلوکی کے 14، ناقص نگرانی کے 13 اور قواعد کی خلاف ورزی کے 11 کیسز سامنے آئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ احتسابی کارروائیوں میں 221 شوکاز نوٹس، 279 وضاحت طلبی کے کیسز، 184 انکوائریاں، 102 معطلیاں، 23 اظہار ناپسندیدگی اور 9 او ایس ڈی کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔محکمہ جاتی اعتبار سے ضلع دفاتر سے 305، منسلک محکموں و اداروں سے 263 جبکہ مرکزی محکموں سے 259 کیسز رپورٹ ہوئے۔ صحت کے شعبے کے فیلڈ وزٹس کے دوران ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے 90 افسران و اہلکاروں جبکہ ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال لکی مروت کے 61 افسران و اہلکاروں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ احتساب سے کوئی بالاتر نہیں، سرکاری نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس، میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رہے گا اور کرپٹ عناصر کے لیے خیبرپختونخوا میں کوئی جگہ نہیں۔









