بورےوالا ،سیوریج منصوبے میں سنگین خامیاں، تکنیکی جانچ کی سفارش

حاجی شیر دیوان صاحب اڈا سے امجد ٹاؤن کی گلی نمبر 13 تک بچھائی گئی سیوریج لائن کے بارے میں مشترکہ انکوائری رپورٹ میں منصوبے کے ڈیزائن، گنجائش اور کارکردگی سے متعلق سنگین تکنیکی و عملی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بورےوالا ۔ 24 اگست (اے پی پی):حاجی شیر دیوان صاحب اڈا سے امجد ٹاؤن کی گلی نمبر 13 تک بچھائی گئی سیوریج لائن کے بارے میں مشترکہ انکوائری رپورٹ میں منصوبے کے ڈیزائن، گنجائش اور کارکردگی سے متعلق سنگین تکنیکی و عملی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

فیلڈ انسپکشن کمشنر ملتان ڈویژن رانا عامر کریم خان کی ہدایت اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی خالد جاوید گورائیہ کے حکم پر کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بورےوالا جواد حسین ملک کی قیادت میں میونسپل افسران، تکنیکی ماہرین اور متعلقہ نمائندوں پر مشتمل چار رکنی انکوائری کمیٹی نے تقریباً 9 ہزار 683 رننگ فٹ سیوریج لائن کا معائنہ کیا۔22 اگست کو حتمی کی گئی رپورٹ میں منصوبے کی تکنیکی افادیت، لیولز، الائنمنٹ، فعالیت اور نکاسی آب کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا اور متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔رپورٹ کے مطابق منصوبہ سرکاری اراضی پر موجود تقریباً 6 ایکڑ کے پانی جمع ہونے والے علاقے کی نکاسی کا مطلوبہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے بجائے ملحقہ رہائشی اور تجارتی علاقوں کا گندا پانی اس جگہ میں جمع ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں اسے عوامی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

انکوائری کمیٹی کے مطابق نئی سیوریج لائن عملاً زاہدہ آباد چوک سے ریلوے لائن کی جانب صرف ایک گلی کو نکاسی کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جبکہ تقریباً 22 ملحقہ گلیاں مؤثر سیوریج کلیکشن سسٹم سے محروم ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امجد ٹاؤن گلی نمبر 13 تک بنائے گئے مین ہولز اردگرد کی سطح زمین سے تقریباً ڈھائی فٹ بلند ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور مبینہ طور پر حادثات اور شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔رپورٹ میں ایک اور اہم تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ نئی سیوریج لائن کو چک نمبر 451 ای بی ڈسپوزل اسٹیشن جانے والی پہلے سے اوورلوڈ 42 انچ ٹرنک سیور لائن سے منسلک کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق معمولی بارش کے دوران ہائیڈرولک دباؤ کے باعث مین ہولز سے گندا پانی تیزی سے باہر نکل آتا ہے، جبکہ شدید بارش میں پانی کے شدید اوور فلو کے ساتھ بھاری مین ہول کورز بھی اپنی جگہ سے ہٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔

انکوائری کمیٹی نے منصوبے کے منظور شدہ پی سی ون، نظرثانی شدہ منظوریوں، ڈیزائن، ہائیڈرولک کیلکولیشنز، کیچمنٹ ایریا اور موجودہ سیوریج نیٹ ورک کی گنجائش کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ محکمانہ سطح پر منصوبے کی مزید جانچ کی جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ موجودہ شکل میں یہ منصوبہ اربن فلڈنگ اور نکاسی آب کے مسائل کے حل میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔ذرائع کے مطابق کمشنر ملتان ڈویژن رانا عامر کریم خان انکوائری رپورٹ کی روشنی میں معاملہ مزید تکنیکی جانچ کے لیے پنجاب کے سیکرٹری ہاؤسنگ کو بھجوا رہے ہیں۔ متعلقہ محکمہ سیوریج لائن کے ڈیزائن، گنجائش اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرے گا۔