سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے نے خطے میں پانی، امن اور مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے
سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے نے خطے میں پانی، امن اور مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے ، وفاقی وزیر کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے نے خطے میں پانی، امن اور مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ آبی ماہرین، قانونی ماہرین اور حکومتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ چھ دہائیوں پرانے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کی روش نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتی ہے بلکہ دنیا میں پانی کی تقسیم کے دیگر معاہدوں کے لئے بھی ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار ’’بحران میں گھرا معاہدہ: سندھ طاس معاہدہ، آبی سفارت کاری اور علاقائی امن‘‘ میں مقررین نے کہی۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے اپنے کلیدی خطاب میں دریائے سندھ کو ’’پاکستان کی زندگی کی دھڑکن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریا گھروں کو پانی دیتا، کھیتوں کو سیراب کرتا اور ملک کے بچوں کے مستقبل سے جڑی امیدوں کو زندہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہ پاکستان بھارت کے پانی کے جائز اور پُرامن استعمال کے خلاف نہیں، تاہم پانی سے متعلق تمام اقدامات بین الاقوامی معاہدوں اور قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے، مستقل سندھ طاس کمیشن کے اجلاس دوبارہ شروع کرے اور پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ بحال کرے کیونکہ یہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان ایک طرف قانونی اور سفارتی ذرائع سے اپنا مقدمہ آگے بڑھاتا رہے گا اور دوسری طرف آبپاشی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے اور پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافے پر بھی توجہ دے گا۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے تحقیق ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ پانی جنوبی ایشیا کی معیشت، صحت اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آبی کشیدگی آنے والے دنوں میں خطے کی اقتصادی اور سیاسی سفارت کاری کی سمت متعین کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ایک ملک کو ایک طویل عرصے سے نافذ معاہدے کو یک طرفہ طور پر نظرانداز کرنے کی اجازت مل گئی تو دوسرے بالائی دریائی ممالک بھی مستقبل میں ایسی مثال کو بنیاد بنا سکتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے سینئر واٹر ایڈوائزر نصیر میمن نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے، تاہم دریا کے قدرتی بہاؤ، جغرافیہ اور خطے کی زمینی حقیقتیں بعض اہم حفاظتی عوامل بھی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے تقریباً 80 فیصد پانی کا منبع بھارت کے کنٹرول سے باہر ہے جبکہ لداخ کے بعض معاون دریا زیادہ تر عرصہ برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر اور وزارتِ آبی وسائل کے ایڈیشنل سیکریٹری سید محمد مہر علی شاہ نے سیمینار میں تفصیلی تکنیکی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دریائے چناب اور جہلم سے نکلنے والی نہروں سے سیراب ہونے والے علاقے اور راوی لنک کینال سے دیپالپور تک پہنچنے والا پانی پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم اور حساس ہے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں بھارت مون سون کے دوران تقریباً دو سے چار دن اور سردیوں میں آٹھ سے دس دن تک پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو فی الحال قابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال سندھ طاس معاہدے کی شق سوم کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ زیرِ زمین پانی پاکستان کے لیے کوئی مکمل متبادل نہیں کیونکہ اس کے ذخائر کا بڑا حصہ نہری پانی کے رساؤ سے دوبارہ بھر جاتا ہے۔ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لا (RSIL) کے بانی احمد بلال صوفی نے بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے ذریعے استعمال کرنے کی ایسی مثالیں دنیا میں بہت کم ملتی ہیں۔
انہوں نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں معاملات میں یک طرفہ طور پر بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف کا پہلو نمایاں ہے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس محض پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں کئی دہائیوں سے جاری آبی تعاون اور علاقائی استحکام کی ایک اہم بنیاد ہے۔ اس معاہدے کا مستقبل صرف دو ممالک کے تعلقات ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مشترکہ دریاؤں کے انتظام اور آبی سفارت کاری کےلئے بھی اہم پیغام رکھتا ہے۔








