وزیرمملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں موثر ریگولیٹری نظام سےسرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں،وزیرمملکت بلال بن ثاقب کا تاشقند میں سلک روڈ فنانس اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وزیرمملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں موثر ریگولیٹری نظام سےسرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات تاشقند میں سلک روڈ فنانس اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بلال بن ثاقب نے پاکستان کے اے آئی اور ٹوکنائزیشن کے وژن کو عالمی فورم پر اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ حکومتوں کو ایسی ریگولیٹری ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی جو جدید ٹیکنالوجی کی رفتار سے تبدیل ہوں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ورچوئل اثاثوں پر پابندی سے ریگولیٹڈ نگرانی کی جانب منتقل ہو گیا ہے، پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں موثر ریگولیٹری نظام سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔انہوں نے کہاکہ 2018 کی پابندیوں سے ورچوئل اثاثوں کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں، پابندیوں کے باعث ورچوئل اثاثوں کی سرگرمیاں آف شور پلیٹ فارمز اور پیئر ٹو پیئر چینلز تک منتقل ہوئیں، ورچوئل اثاثوں کے موثر انتظام کے لیے ریگولیشن اور نگرانی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو پاکستان کا مخصوص ریگولیٹری ادارہ قائم کیا گیا، سٹیٹ بینک کا سرکلر 10 لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے بینک اکائونٹس کی اجازت دیتا ہے اور پی وی اے آر اےنے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے لائسنسنگ ریگولیشنز نافذ کر دیئے، اس کے ساتھ ساتھ پی وی اے آر اےنے لائسنسنگ پورٹل بھی فعال کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان خودمختار قرضوں تک رسائی کو جدید بنانے کے لیے ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہا ہے، ٹوکنائزیشن سے سرمایہ کاری کی کم مالیت، تیز سیٹلمنٹ اور سکیورٹیز کی ملکیت میں شفافیت ممکن ہوگی، پاکستان کی جانب سے پہلے سرکاری سکیورٹیز کی ٹوکنائزیشن پر بھی توجہ دی جا رہی ہے اور پی وی اے آر اےکا ریگولیٹری سینڈ باکس نئی مالیاتی مصنوعات کی آزمائش کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ پاکستان کے نوجوان ادائیگیوں، ڈیجیٹل کسٹڈی ، کمپلائنس ٹیکنالوجی اور ٹوکنائزیشن میں نئی کمپنیاں بنا سکتے ہیں،ہمارے نوجوان مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور بلاک چین کو صرف استعمال نہ کریں بلکہ ان ٹیکنالوجیز پر کاروبار تعمیر کریں، پاکستان کا مقصد نوجوان کاروباری افراد کو واضح ریگولیٹری ماحول اور مواقع فراہم کرنا ہے۔







