قومی اسمبلی میں منگل کومختلف پارلیمانی جماعتوں کے اراکین نے نکتہ ہائے اعتراض پراپنے حلقوں سمیت عوامی اہمیت کے مسائل کواجاگرکیا۔اجلاس کے دوران ڈی آئی خان سے رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان میاں خیل نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ سرحدیونیورسٹی کے واقعہ کوافواج پاکستان کی بدنامی کیلئے استعمال کیا جارہاہے ،ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے اورذمہ داران کوسخت سے سخت …
قومی اسمبلی کے اراکین کانکتہ ہائے اعتراض پراظہارخیال، حلقوں سمیت عوامی اہمیت کے مسائل کواجاگرکیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی میں منگل کومختلف پارلیمانی جماعتوں کے اراکین نے نکتہ ہائے اعتراض پراپنے حلقوں سمیت عوامی اہمیت کے مسائل کواجاگرکیا۔اجلاس کے دوران ڈی آئی خان سے رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان میاں خیل نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ سرحدیونیورسٹی کے واقعہ کوافواج پاکستان کی بدنامی کیلئے استعمال کیا جارہاہے ،ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے اورذمہ داران کوسخت سے سخت سزادی دینے کامطالبہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹردرشن نے کہاکہ ان کے حلقہ میں لوگوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں، لوڈشیڈنگ بھی ہورہی ہے، میرپورماتھیلو میں دوگھروں میں چوری ہوئی ہے۔
حویلیوں میں گھربھی محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس معاملہ پرسندھ حکومت سے بات کی جائے اورمسائل کاحل نکالا جائے۔ذوالفقاربچانی نے کہاکہ ہمارے پاس گیس کے ذخائرہیں مگرجن علاقوں سے گیس نکل رہی ہے وہاں پرگیس کنکشن نہیں دیئے جا رہے ،اس حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے اورمتعلقہ قوانین پرعمل درآمدکویقینی بنایا جائے۔انہوں نے علاقہ میں بجلی کے لوڈشیڈنگ اوربجلی سے متعلق دیگرمسائل کے حل کیلئے اقدامات کامطالبہ بھی کیا۔پلین بلوچ نے کہاکہ سڑکوں پرحادثات میں اضافہ ہورہاہے جس سے انسانی جانوں کانقصان ہورہاہے۔
بلوچستان میں سڑکوں کی مرمت وبحالی پرکوئی توجہ نہیں دی جارہی،اسی طرح سڑکوں کیلئے فنڈز بھی جاری کئے جارہے ہیں مگراس کااستعمال نہیں ہورہا۔میرخان محمدجمالی نے کہاکہ ڈیرہ اللہ یارمیں پانی کامسئلہ سنگین ہوگیاہے، تالابوں میں پانی گدلاہوگیاہے اوراس سے بدبوپھیل رہی ہے، ایک لاکھ کی آبادی کوپینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائے۔ انہوں نے جعفرآبادمیں یونیورسٹی کے قیام کامطالبہ بھی کیا۔ بابرنواز خان نے کہاکہ ہری پورمیں بچی کے واقعہ پرصوبائی حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے، صوبائی حکومت کے کسی بھی عہدیدارنے متاثرہ خاندان سے رابطہ یادلجوئی کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہزارہ کو الگ صوبہ بنانا چاہیے۔








