وفاقی وزیر ہائوسنگ و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ذیلی سیکٹر جی 14/1 کی زیر قبضہ اراضی متاثرین اور تعمیر شدہ جائیدادوں سے متعلق مسائل حل ہونے کے بعد مکمل طور پر واگزار کرا لی جائے گی۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی سرکاری ملازمین ہائوسنگ اتھارٹی متاثرین کے ساتھ مذاکرات اور …
ذیلی سیکٹر جی 14/1 کی زیر قبضہ اراضی متاثرین اور تعمیر شدہ جائیدادوں سے متعلق مسائل حل ہونے کے بعد مکمل طور پر واگزار کرا لی جائے گی، ریاض حسین پیرزادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر ہائوسنگ و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ذیلی سیکٹر جی 14/1 کی زیر قبضہ اراضی متاثرین اور تعمیر شدہ جائیدادوں سے متعلق مسائل حل ہونے کے بعد مکمل طور پر واگزار کرا لی جائے گی۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی سرکاری ملازمین ہائوسنگ اتھارٹی متاثرین کے ساتھ مذاکرات اور دیگر قانونی اقدامات کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھا رہی ہے جبکہ حقیقی الاٹیز کے حقوق اور مفادات کا بھی تحفظ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 580 قانونی تعمیر شدہ جائیدادوں میں سے 419 کے مقدمات نمٹا کر معاوضے کے ایوارڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 199 تعمیرات کا معاوضہ ادا کرنے کے بعد انہیں مسمار کر دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ باقی 161 تعمیر شدہ جائیدادوں کے مالکان نے ایوارڈ جاری کرنے کے لیے لازمی تخمینہ لگانے کی اجازت نہیں دی۔ وفاقی سرکاری ملازمین ہائوسنگ اتھارٹی ان مالکان سے مذاکرات کر رہی ہے اور ضروری تخمینہ، قانونی اور ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل متاثرین کو معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ذیلی سیکٹر جی 14/1 میں ترقیاتی کاموں کے لیے ٹینڈر پہلی مرتبہ 22 جون 2023ء کو جاری کیا گیا تھا تاہم اراضی کا قبضہ حاصل نہ ہونے کے باعث 16 نومبر 2023ء کو منسوخ کر دیا گیا۔
بعد ازاں 9 اگست 2024ء کو دوبارہ ٹینڈر جاری کیا گیا تاہم غیر معمولی طور پر زیادہ اور غیرمعقول نرخوں کے باعث مجاز اتھارٹی نے اسے مسترد کر دیا۔وفاقی وزیر کے مطابق اس وقت ٹینڈر دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں اور انہیں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تعمیر شدہ جائیدادوں کی مسماری سے متعلق مسائل کے باعث جی 14/1 کی زیر قبضہ اراضی تاحال مکمل طور پر واگزار نہیں کرائی جا سکی۔
ذیلی سیکٹر میں مجموعی طور پر 1,129 تعمیر شدہ جائیدادیں موجود ہیں، جن میں 580 قانونی اور 549 غیر قانونی تعمیرات شامل ہیں۔ انہوں نے 549 غیر قانونی تعمیرات کی موجودگی کو ترقیاتی کاموں کے لیے درکار اراضی کا قبضہ حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تعمیرات کے باعث دیگر قابضین اور متاثرین بھی مطلوبہ اراضی خالی کرنے سے مزاحمت کر رہے ہیں۔ ریاض حسین پیرزادہ نے بتایا کہ بعض متاثرین معاوضے کے ایوارڈز جاری ہونے کے باوجود رقم وصول کرنے اور حاصل شدہ اراضی خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ زیر التوا مقدمات اور تجاوزات سے متعلق حل طلب معاملات بھی اراضی کا خالی قبضہ حاصل کرنے کے عمل میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔








