چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر (ستارۂ امتیاز) نے کہا ہے کہ محققین اپنی تحقیق کو معاشرے کو درپیش اہم مسائل کے حل پر مرکوز کرتے ہوئے جدید، قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی اقدامات تجویز کریں تاکہ تحقیق کو عملی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے مؤثر طور پر بروئے کار لایا جاسکے۔
محققین سماجی مسائل کے حل کے لیے جدید اور شواہد پر مبنی تحقیقی اسلوب اپنائیں، چیئرمین ایچ ای سی

مزید خبریں
راولپنڈی۔25اگست (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر (ستارۂ امتیاز) نے کہا ہے کہ محققین اپنی تحقیق کو معاشرے کو درپیش اہم مسائل کے حل پر مرکوز کرتے ہوئے جدید، قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی اقدامات تجویز کریں تاکہ تحقیق کو عملی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے مؤثر طور پر بروئے کار لایا جاسکے۔پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں ’’جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے پروجیکٹ پروپوزل ڈویلپمنٹ میں استعدادِ کار میں اضافہ‘‘ کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز ہوگیا۔
ورکشاپ کا مقصد محققین اور فیکلٹی ممبران کی تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ اور معیاری و مؤثر تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بہتر پروپوزلز کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ورکشاپ بارانی زرعی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے زیر اہتمام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی سرپرستی میں منعقد کی جا رہی ہے، جبکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی نے قومی و بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے تحقیق و ترقی کے لیے مالی معاونت کے حصول میں جامع، مؤثر اور منظم تحقیقی منصوبہ جات کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے زور دیا کہ تحقیق کو محض علمی و تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے حقیقی دنیا کے مسائل کے حل، معاشرتی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بامعنی کردار ادا کرنا چاہیے۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ جامعات محض تدریس اور تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ علم کی تخلیق، جدت، مسائل کے حل اور معاشرتی تبدیلی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ ایسی تحقیقی ثقافت کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے جس میں اخلاقی اصولوں اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تحقیقی خیالات کو کامیاب منصوبوں، بامعنی اختراعات اور عملی حل میں تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تحقیق اور جدت کے ذریعے قومی و معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ میں شریک محققین قومی و بین الاقوامی ماہرین کے تجربات اور مہارتوں سے بھرپور استفادہ کریں گے۔ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز اور ورکشاپ کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر عظیم خالد نے بتایا کہ تین روزہ ورکشاپ ہائبرڈ موڈ میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پانچ تکنیکی سیشنز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ورکشاپ میں مختلف شعبہ ہائے علم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تجربے کے حامل 14 قومی و بین الاقوامی ماہرین بطور ریسورس پرسنز اور مقررین شرکت کر رہے ہیں۔








