قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب سپیکر طارق فاروق اور ڈپٹی سپیکر احمد رضا قادری کو کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب سپیکر طارق فاروق اور ڈپٹی سپیکر احمد رضا قادری کو کامیابی پر مبارکباد

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب سپیکر طارق فاروق اور ڈپٹی سپیکر احمد رضا قادری کو کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا جمہوری عمل کے ذریعے انتخاب جمہوریت کے حسن اور پارلیمانی روایات کی مضبوطی کا مظہر ہے، یہ انتخاب عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور پارلیمانی اداروں پر اعتماد کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے نو منتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو مؤثر، فعال اور باوقار پارلیمانی ادارہ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دیں گے۔
سیدال خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، نو منتخب قیادت ان شعبوں میں مؤثر قانون سازی اور پالیسی سازی کے ذریعے عوام کی توقعات پر پورا اترے گی۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمانی ادارے جمہوریت کی بنیاد اور عوامی مسائل کے حل کا اہم ذریعہ ہیں، مضبوط پارلیمان ہی جمہوری نظام کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور سینیٹ کے درمیان پارلیمانی روابط اور تجربات کے تبادلے سے جمہوری و پارلیمانی اقدار کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نومنتخب سپیکر طارق فاروق اور ڈپٹی سپیکر احمد رضا قادری اپنی آئینی ذمہ داریاں غیر جانب داری، تدبر اور بہترین پارلیمانی روایات کے مطابق انجام دیں گے اور آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے نو منتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی آزاد کشمیر میں جمہوری عمل کے تسلسل اور پارلیمانی نظام کے استحکام کے لئے نیک شگون ثابت ہوگی۔








