چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی انتظامی نگرانی میں آنے والے تمام عوامی مقامات، عمارتوں اور اداروں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرکے 15روز کے اندر ضوابط پر عمل درآمد کے دستخط شدہ سرٹیفکیٹس جمع کرائیں۔
چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت اجلاس،صوبہ بھر میں کیے گئے فائر سیفٹی آڈٹ کا جائزہ

مزید خبریں
کراچی۔ 27 اگست (اے پی پی):چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی انتظامی نگرانی میں آنے والے تمام عوامی مقامات، عمارتوں اور اداروں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرکے 15روز کے اندر ضوابط پر عمل درآمد کے دستخط شدہ سرٹیفکیٹس جمع کرائیں۔جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق صوبہ بھر میں کیے گئے فائر سیفٹی آڈٹ کا جائزہ لینے کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا،جس میںمختلف سرکاری محکموں میں فائر سیفٹی انتظامات، آڈٹ کے نتائج اور نشاندہی کی گئی خامیوں کو دور کرنے کیلئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ فائر سیفٹی کے تمام انتظامات عملی طور پر موجود، مکمل فعال اور ہر وقت استعمال کے لیے تیار ہونے چاہئیں۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 3,354 عمارتوں کی نشاندہی کرکے ان کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈویژن وار تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کراچی ڈویژن میں 798، حیدرآباد ڈویژن میں 1,287، لاڑکانہ ڈویژن میں 420، میرپورخاص ڈویژن میں 129، شہید بینظیرآباد ڈویژن میں 418اور سکھر ڈویژن میں 302 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا۔چیف سیکریٹری سندھ نے فائر سیفٹی آڈٹ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں فائر سیفٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی کے موثر نظام کو برقرار رکھا جائے، ماضی میں پیش آنے والے آتش زدگی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے آصف حیدر شاہ نے کہا کہ بروقت حفاظتی اقدامات، تربیت یافتہ عملے اور منظم ہنگامی انخلا ء کے انتظامات کے ذریعے جانی و مالی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائر سیفٹی ایک مسلسل ذمہ داری ہے، جسے محض ایک مرتبہ کے معائنے تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔انہوں نے تمام انتظامی محکموں اور ڈویژنل کمشنرز کو ہدایت کی کہ ہر عمارت اور سہولت میں فائر سیفٹی ضوابط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ عوامی مقامات، سرکاری عمارتوں، تجارتی مراکز، شاپنگ مالز، مارکیٹوں، جیلوں، اسپتالوں، تدریسی اسپتالوں، صنعتی اداروں، اسکولوں، کالجوں، ہاسٹلز، چائلڈ پروٹیکشن اداروں، دارالامان، یتیم خانوں اور بس ٹرمینلز کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں میں خصوصی حفاظتی اقدامات اور قابل عمل ہنگامی انخلا کے انتظامات یقینی بنائے جائیں جہاں بچے، خواتین، مریض، طلبہ، قیدی اور دیگر کمزور طبقات موجود یا رہائش پذیر ہوں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے صوبے میں 580 سے زائد خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے حوالے سے چیف سیکریٹری نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ 15 روز کے اندر ہر عمارت کی موجودہ حالت، قانونی حیثیت، اب تک کی گئی کارروائی اور آئندہ کے مجوزہ لائحہ عمل پر مشتمل جامع عمارت وار رپورٹ پیش کریں۔
آصف حیدر شاہ نے ہدایت کی کہ منظور شدہ فائر سیفٹی چیک لسٹ کے مطابق تمام متعلقہ عمارتوں میں فعال فائر الارم پینلز، آگ بجھانے کے آلات، دھوئیں کی نشاندہی کے نظام، مرکزی الارم اور ہائڈرنٹ سسٹمز کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستوں کی واضح نشاندہی کی جائے اور انہیں ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک اور کھلا رکھا جائے۔ عمارتوں میں ہنگامی روشنیاں، سمت کی نشاندہی کرنے والے سائن بورڈز، بجلی کی محفوظ وائرنگ اور فائر بریگیڈ و ریسکیو گاڑیوں کی بلا رکاوٹ رسائی بھی یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید ہدایت کی کہ ہر عمارت کے لیے قابل عمل ہنگامی انخلا منصوبہ تیار کیا جائے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ذمہ دار عملے کو باقاعدگی سے تربیت دی جائے اور وقتا فوقتا عملی انخلا مشقوں کا انعقاد کیا جائے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، چیئرمین چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بلال میمن، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد حسین عباسی، سیکریٹری صنعت، سیکریٹری صحت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری بحالیات اور سیکریٹری جامعات و بورڈز نے شرکت کی۔








