بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے فنڈ یونیسیف نے کہا ہے کہ نیپال، چین سرحدی علاقوں میں سیلاب سے 17 ہزار بچے متاثر ہو ئے ہیں ۔
نیپال، چین سرحدی علاقوں میں سیلاب سے 17 ہزار بچے متاثر ہو ئے ہیں، یونیسیف

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔28اگست (اے پی پی):بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے فنڈ یونیسیف نے کہا ہے کہ نیپال، چین سرحدی علاقوں میں سیلاب سے 17 ہزار بچے متاثر ہو ئے ہیں ۔
ٹیلی ویژن رپورٹس کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی ٹیموں اور ہیلی کاپٹروں نے دشوار گزار پہاڑی وادیوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش تیز کردی ہے، جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔اچانک آنے والے سیلاب میں پانی، کیچڑ اور برف کے تودوں نے دریائی وادی میں واقع کئی آبادیوں کو چند ہی منٹوں میں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ افراد نے بتایا کہ سیلابی ریلے اپنے ساتھ مکانات اور خاندانوں کو بہا لے گئے۔اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے اضلاع راسوا، نواکوٹ اور دھادنگ میں انسانی ضروریات انتہائی زیادہ ہیں، جبکہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی ہلاکت، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات میں خلل جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا کہ عالمی ادارہ امدادی سامان اور انسانی امدادی ٹیمیں متحرک کررہا ہے اور ہنگامی امداد کی فراہمی میں نیپالی حکومت کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
یونیسیف کے مطابق سیلاب نے متعدد آبادیوں کو مکمل طور پر تباہ یا ایک دوسرے سے منقطع کردیا ہے جبکہ سڑکوں، پلوں، پن بجلی گھروں، پانی کے نظام اور مواصلاتی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔یونیسیف کے مطابق راسوا، نواکوٹ اور دھادنگ میں کم از کم 17 ہزار بچے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ زندہ بچ جانے والے بچوں کو بیماریوں، غذائی قلت، تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔چین کے علاقے تبت میں بھی تقریباً 560 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی طبی سامان روانہ کیا ہے، جس سے تقریباً 10 ہزار افرادکو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں، جبکہ چھ کثیرالمقاصد خیمے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
عالمی خوراک پروگرام اور یونیسیف نے بھی امدادی سامان سے لدے ٹرک اور عملہ متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اقوام متحدہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے جائزہ بھی لے رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق ہمالیہ کی بلند وادیوں میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کو اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی ممکنہ وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ راسوا ضلع، جو دارالحکومت کھٹمنڈو سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، شدید متاثر ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور خطرات کے کم تخمینے کے باعث2015 سے 2030 کے دوران عالمی سطح پر قدرتی آفات میں 40 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ادارے نے 2030 تک ہر سال 560 درمیانے اور بڑے پیمانے کی قدرتی آفات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔








