بلوچستان میں سرکاری ہسپتالوں میں آتش زدگی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر انتظامات یقینی بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی

سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن کی ہدایت پر صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز میں آتش زدگی کے ممکنہ واقعات کی روک تھام اور فائر سیفٹی کے موثر انتظامات یقینی بنانے کے لیے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے

کوئٹہ۔ 28 اگست (اے پی پی):سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن کی ہدایت پر صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز میں آتش زدگی کے ممکنہ واقعات کی روک تھام اور فائر سیفٹی کے موثر انتظامات یقینی بنانے کے لیے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے کمیٹی کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے نمائندے، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن محکمہ صحت اور ڈائریکٹر جنرل میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر 1122 بطور اراکین شامل ہوں گے۔ چیف پلاننگ آفیسر/ٹیکنیکل ایڈوائزر محکمہ صحت کمیٹی کے رکن و سیکرٹری ہوں گے۔ متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈویژنل ڈائریکٹرز، فائر بریگیڈ، میٹروپولیٹن و میونسپل کارپوریشنز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو بھی ضرورت کے مطابق کمیٹی میں شامل کیا جا سکے گا۔کمیٹی صوبے کے تمام سرکاری صحت مراکز کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرے گی اور ہر ہسپتال و مرکز کا موقع پر معائنہ کرکے حفاظتی انتظامات کی تصدیق کرے گی۔

معائنے کے دوران اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ عمارت کی ہر منزل پر اسموک اور فائر الارم فعال حالت میں نصب ہیں، فائر ایکسٹنگوشرز کی باقاعدگی سے سروسنگ کی جا رہی ہے اور انہیں آسانی سے قابلِ رسائی مقامات پر رکھا گیا ہے۔کمیٹی ہسپتالوں میں ہنگامی اخراج کے راستوں، ان کی واضح نشاندہی، راستوں کو رکاوٹوں سے پاک رکھنے اور ہر منزل پر ایمرجنسی ایگزٹ نقشوں کی نمایاں نمائش کا بھی جائزہ لے گی۔ ہسپتالوں کے عملے کی فائر سیفٹی تربیت، سال میں کم از کم دو مرتبہ فائر ڈرلز کے انعقاد اور آگ بجھانے والے آلات کے درست استعمال سے متعلق عملی آگاہی کی بھی جانچ کی جائے گی۔اس کے علاوہ کیمیکلز، گیس اور آکسیجن سلنڈرز، کپڑے اور دیگر آتش گیر مواد کو حرارت کے ذرائع سے دور محفوظ مقامات پر رکھنے، اسپیس ہیٹرز کے محفوظ استعمال اور کچن و پینٹری میں حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ عملے کو فائر ایکسٹنگوشر استعمال کرنے کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ PASS طریقہ کارPull, Aim, Squeeze, Sweep سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔مقررہ حفاظتی معیارات پر پورا اترنے والے صحت مراکز کو کمیٹی اور بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کی مشترکہ توثیق سے ایک سال کے لیے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

اس حوالے سے کوئی کمی بیشی سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ ادارے کو اصلاحی اقدامات کے لیے تحریری نوٹس اور زیادہ سے زیادہ 30 روز کی مہلت دی جائے گی، جس کے بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے گا۔ دانستہ یا مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں معاملہ قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی کے لیے مجاز اتھارٹی کو بھجوایا جائے گا۔کمیٹی میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر 1122 کے تعاون سے فنی جائزے، عملی فائر ڈرلز اور ہسپتالوں کے عملے کی تربیت کا انتظام کرے گی، جبکہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن حفاظتی ضوابط کے نفاذ، لائسنسنگ اقدامات اور ایمرجنسی ایگزٹ نقشوں کی تنصیب کی نگرانی کرے گا۔ہر صحت مرکز میں فائر الارم، آگ بجھانے والے آلات اور عملے کے تربیتی پروگراموں کی ضروریات اور تخمینہ اخراجات کا الگ تعین کرکے سفارشات محکمہ صحت کو پیش کی جائیں گی۔ کمیٹی معائنے کے نتائج، فائر سیفٹی سرٹیفکیشن کی صورتِ حال، خامیوں اور سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ سیکرٹری صحت بلوچستان کو پیش کرے گی جبکہ پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جائے گا۔سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے واضح کیا ہے کہ مریضوں،

تیمارداروں اور طبی عملے کی جان و مال کا تحفظ محکمہ صحت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور فائر سیفٹی کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز کو مقررہ حفاظتی معیارات کی فوری تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔