پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری اور توانائی تحفظ کے فروغ کیلئے حکومت اور کاروباری برادری میں مشاورت

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں ملک کی توانائی سلامتی، پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع، سپلائی چین کے استحکام اور جاری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

اسلام آباد/کراچی۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں ملک کی توانائی سلامتی، پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع، سپلائی چین کے استحکام اور جاری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔او آئی سی سی آئی کے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے چیمبر کی سینئر قیادت، صنعت سے وابستہ افراد اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان سے ملاقات کی۔ اجلاس میں میڈیا کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور پیٹرولیم شعبے میں جاری پیش رفت، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کی۔اس موقع پروفاقی وزیر نے شرکا کو حکومت کیجانب سے تیل و گیس کی تلاش،ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں اصلاحات کیلئے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے توانائی کے تحفظ کیلئے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں کو بھی اجاگر کیا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو زیادہ مسابقتی، سرمایہ کاری دوست اور ملک کی طویل المدتی توانائی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ حکومت ایکسپلوریشن، ریفائننگ اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں اصلاحات کیلئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے عملی مسائل حل اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔او آئی سی سی آئی کے ارکان نے صنعت کے نقطہ نظر سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی اور ٹیکس نظام میں تسلسل،شفافیت اور مناسب سکیورٹی سرمایہ کاروں کےاعتماد کو مضبوط بنانے کیلئے اہم ہیں۔او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہا کہ پیٹرولیم شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے نظام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ رابطے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل مذاکرات عملی صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی و سرمایہ کاری اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ او آئی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے قابلِ پیش گوئی کاروباری اور ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل رابطے اور زیر التوا معاملات کے بروقت حل سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔او آئی سی سی آئی نے حکومت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سرمایہ کاری،توانائی سلامتی اور پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دریں اثناوفاقی وزیر پیٹرولیم نےکراچی میں پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی انتظامیہ سے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں قومی توانائی سلامتی، سپلائی چین کےاستحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج میں توسیع اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور پیٹرولیم سپلائی چین کی استعداد و پائیداری بہتر بنانے کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔وفاقی وزیر نے ملک میں بلاتعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے پر پی ایس او کی کارکردگی کو سراہا اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کردار کی تعریف کی۔علی پرویزملک نے پیٹرولیم شعبے کی جدید کاری اور توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کیلئےانفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نےاسٹریٹجک اسٹوریج کی استعداد بڑھانے، سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے اور کارکردگی و بروقت ردعمل بہتر بنانے کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید خبریں