پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ، حکومت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمند بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، رانا مشہود احمد خان

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھا، قیام پاکستان کے وقت شدید وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے بزرگوں نے انتھک محنت اور جدوجہد سے ملک کو سنبھالا اور دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے، پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے اور حکومت نوجوانوں کو قومی ترقی کے مرکز میں لانے کے …

لاہور۔29اگست (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھا، قیام پاکستان کے وقت شدید وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے بزرگوں نے انتھک محنت اور جدوجہد سے ملک کو سنبھالا اور دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے، پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے اور حکومت نوجوانوں کو قومی ترقی کے مرکز میں لانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ایکسپو سنٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی خوبیوں کو نظر انداز کرکے اس کی خامیوں کو زیادہ نمایاں کرنے کے بجائے ملک کی کامیابیوں اور مثبت پہلووں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ پاکستان مسلسل جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھا ہے اور آج ملک جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت اور مختلف شعبوں میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فائبر آپٹک ٹیکنالوجی آئی جس کے باعث آج عوام موبائل فون اور جدید مواصلاتی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے ملک کی خودمختاری اور دفاع کو مضبوط بنایا۔ اگر پاکستان کے پاس ایٹمی دفاعی صلاحیت نہ ہوتی تو ملک کو بھی شام، عراق یا لیبیا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پانچویں نسل کی جنگ مسلط کی گئی جس کے ذریعے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم پاکستانی نوجوان باصلاحیت، باہمت اور ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں راشد لطیف خان یونیورسٹی سمیت بے شمار تعلیمی ادارے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں جبکہ حکومت بلاسود قرضوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے لاکھوں طلبہ و طالبات کو وظائف فراہم کیے گئے ہیں، جن کی بدولت وسائل سے محروم خاندانوں کے باصلاحیت بچے ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبوں کے ماہرین بن رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے ایک رنگ ساز کا بیٹا اسکالرشپ حاصل کرکے سرجن بنا اور آج امریکہ میں خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ یزمان کی ایک بچی، جس کی والدہ گھروں میں کام کرتی تھیں، اسکالرشپ کے ذریعے لمز تک پہنچی۔انہوں نے کہا کہ شمون مسیح کے والد دفاتر میں صفائی کا کام کرتے تھے، لیکن ان کے بیٹے نے تعلیم حاصل کرکے انجینئر کی حیثیت سے اسی دفتر میں افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایسے واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا مستقبل صرف مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر باصلاحیت نوجوان کو آگے بڑھنے کا مساوی موقع ملنا چاہیے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمند بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کی قابلیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے اور پاکستانی نرسز کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔ نرسز کی سالانہ تعداد چند ہزار سے بڑھا کر 38 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم نے اگلے سال تک نرسز کی تعداد 60 ہزار سے ایک لاکھ تک لے جانے کا ہدف دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں معیار برقرار رکھتے ہوئے افرادی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں ہیلتھ ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے چین کی 50 یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلیمی تعاون کے معاہدے کیے ہیں جبکہ چین کے 70 سے زائد تکنیکی تعلیم کے اداروں کے ساتھ بھی تعاون کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی 25 یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلیمی تعاون جبکہ امریکی ہیلتھ سیکٹر اور تکنیکی تعلیم کے 17 اداروں کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جامعات کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید تحقیق پاکستان منتقل کی جائے گی اور ملک میں عالمی جامعات کے اشتراک سے ریسرچ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ آئندہ دو ماہ کے دوران بین الاقوامی جامعات کے نمائندگان پاکستان آئیں گے، جبکہ پاکستانی جامعات، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تحقیقی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد دنیا کے دروازے پاکستان کے لیے کھلے ہیں اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اب مستقبل کی منصوبہ بندی اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ 2047 میں پاکستان کے قیام کو 100 سال مکمل ہوں گے، اس لیے مستقبل کی تیاری ابھی سے شروع کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ حکومت پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی متعارف کرا رہی ہے جس کی کابینہ سے منظوری ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی بھی لانچ کی جا چکی ہے۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ نوجوانوں کی ملازمت میں ہر سال 35 فیصد خواتین کی شمولیت یقینی بنانے اور نئی کمپنیوں میں ہر سال 10 فیصد نوجوانوں کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملکی معیشت میں مثر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی ای اسپورٹس پالیسی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں گیم ڈویلپمنٹ، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ گیم ڈویلپمنٹ اور اس سے متعلقہ شعبے اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکے ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے ان شعبوں میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن 2047 کے تحت نوجوانوں کو قومی ترقی کے مرکز میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پالیسی سازی میں پہلی مرتبہ نوجوانوں سے براہ راست تجاویز اور آئیڈیاز لیے جائیں گے اور نوجوانوں سمیت پاکستان بھر کے متعلقہ اداروں سے آئندہ چھ ماہ کے لیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت کی ترجیح صرف پالیسی بنانا اور اسے عوام تک پہنچانا نہیں بلکہ اس کی عملی صورت یقینی بنانا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں، توانائی اور تخلیقی قوت کو درست سمت میں استعمال کرکے پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر تیزی سے گامزن کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں