وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ہے، حکومت وزیر اعظم محمد شہبا زشریف کے ویژن کے تحت صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے
صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح، پمز واقعے میں کوتاہی کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
لاہور۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ہے، حکومت وزیر اعظم محمد شہبا زشریف کے ویژن کے تحت صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے ، معاشرے میں تفریق ختم کرنے کیلئے سماجی انصاف ضروری ہے ، پمز ہسپتال واقعے میں کوتاہی برتنے والوں کا احتساب ضروری ہے، دنیا اس وقت ہیلتھ سائنسز کے ایک بڑے انقلاب سے گزر رہی ہے،صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری ماحولیاتی تحفظ سے بھی گہری جڑی ہوئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایکسپو سنٹر لاہور میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام بچوں کو بلا تفریق معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے، سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں میں بلا تفریق سہولیات موجود ہیں، تاہم ان سہولیات کے معیار اور سروس ڈلیوری کو مزید بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ سماجی انصاف معاشرے میں تفریق کے خاتمے اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے،معاشرے میں سماجی انصاف اسی وقت یقینی بنایا جا سکتا ہے جب تعلیم اور صحت سمیت بنیادی سہولیات تک ہر شہری کی یکساں رسائی ہو، کسی بچے کو محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں ہونا چاہیے،وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت حکومت صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عام آدمی کو ایک باعزت زندگی فراہم کرنا ہے، جب تک غریب شہری اپنے بچوں کو معیاری سکول میں تعلیم اور اپنے والدین کو قریبی کلینک یا ہسپتال میں باعزت طریقے سے علاج کی سہولت نہیں دلا سکتا، ترقی اور سماجی انصاف کے دعوے بے معنی رہیں گے،ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جن سرکاری سکولوں، ہسپتالوں اور کلینکس میں عام آدمی کے بچے تعلیم حاصل کرتے اور خاندان علاج کرواتے ہیں، کیا ہمارے اپنے بچے بھی انہی اداروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ ساز طبقہ خود سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں سے مستفید نہیں ہوتا تو صرف سماجی انصاف اور سروس ڈلیوری کی اصطلاحات استعمال کرنے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک ہمارے بچے انہی سکولوں، ہسپتالوں اور کلینکس میں نہیں جائیں گے، جہاں عام شہری جاتا ہے، بنیادی سروس ڈلیوری کو بہتر بنانا مشکل ہوگا، اس مقصد کے لیے نجی شعبے، ماہرین، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ غریب شہری کے لیے اہم بات یہ نہیں کہ جی ڈی پی کی شرح کتنی ہے، افراط زر یا مالیاتی خسارہ کس سطح پر ہے، بلکہ اس کی اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مناسب تعلیم دلا سکے اور اپنے والدین و بزرگوں کا باعزت طریقے سے علاج کرا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا اصل وژن عام شہری کو باعزت زندگی کی فرا ہمی یقینی بنانا ہے تاکہ ایک عام خاندان صبح کام پر جائے، اپنے بچوں کو معیاری تعلیم کے لیے سکول بھیج سکے اور اپنے بزرگوں کے علاج کے لیے قریبی کلینک یا ہسپتال سے مناسب سہولت حاصل کر سکے، یہی ریاست کی بنیادی کامیابی بھی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے سروس ڈلیوری کے نظام پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ہسپتال یا ادارے میں ناقص انتظامات کے باعث بچوں کی جانیں ضائع ہوں تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر، نرس یا فائر فائٹر زخمی نہیں ہوا لیکن بچے آگ کی نذر ہوگئے تو سوال اٹھتا ہے کہ سروس ڈلیوری کا نظام کہاں تھا۔انہوں نے کہا کہ سروس ڈلیوری کے نظام کو فوری طور پر درست کرنا ہوگا اور جب تک یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا، دیگر اصلاحات اور پالیسیوں پر گفتگو ادھوری رہے گی،وفاقی وزیر نے پمز ہسپتال واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں اگر کسی سطح پر کوتاہی یا غفلت برتی گئی ہے تو ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے، عوام کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سروس ڈلیوری میں غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا اس وقت ہیلتھ سائنسز کے ایک بڑے انقلاب سے گزر رہی ہے، تاہم یہ صرف طبی علوم کا انقلاب نہیں بلکہ نینو ٹیکنالوجی، بائیوٹیکنالوجی، کوگنیٹو سائنسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا مجموعہ ہے، ان چاروں شعبوں میں ہونے والی پیش رفت ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہے اور اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جدید طبی کامیابیاں اسی سائنسی اور تکنیکی امتزاج کا نتیجہ ہیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مستقبل میں ہیلتھ اور ایجوکیشن کو جدید ٹیکنالوجیز سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، نینو ٹیکنالوجی، بائیوٹیکنالوجی، کوگنیٹو سائنسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے ہی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں موثر اور پائیدار ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری ماحولیاتی تحفظ سے بھی گہری جڑی ہوئی ہے۔ صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول عوام کی بہتر صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے بغیر صحت عامہ کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تعلیم، صحت اور ماحولیات کے شعبوں کو باہم مربوط کرکے عوام کو بہتر معیار زندگی فراہم کیا جائے، ایک صحت مند معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب بچوں کو بنیادی تعلیم، شہریوں کو معیاری صحت کی سہولیات اور ہر فرد کو صاف اور محفوظ ماحول میسر ہو۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سماجی انصاف کا مقصد معاشرے میں موجود تفریق کو ختم کرکے ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں، ماہرین اور تمام شراکت داروں کے تعاون سے اقدامات جاری رکھے گی۔







