قائداعظم یونیورسٹی اور ایس ڈی پی آئی کا تحقیقی و پالیسی تعاون کا معاہدہ،دونوں اداروں کا دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور قائداعظم یونیورسٹی نے تحقیق کو عملی پالیسی سازی سے جوڑنے اور طلبہ و محققین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی تعاون بڑھانے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور قائداعظم یونیورسٹی نے تحقیق کو عملی پالیسی سازی سے جوڑنے اور طلبہ و محققین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی تعاون بڑھانے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔معاہدے پر ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے دستخط کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفقت منیر نے اس تعاون کو اہم پیش رفت قرار دیا اور ایس ڈی پی آئی اور قائداعظم یونیورسٹی کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کو قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی میں بطور طالب علم اور استاد اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کو ’’منی پاکستان‘‘ قرار دیا جو ملک کے مختلف طبقات اور علاقوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ایس ڈی پی آئی کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان تحقیق، پالیسی سازی اور علمی تبادلے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس شراکت داری سے علمی تحقیق اور عملی پالیسی سازی کے درمیان خلیج کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی آئی مسلسل تیسری مرتبہ ساؤتھ ایشیا کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی سربراہی کے لیے منتخب ہوا ہے، جو ادارے کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ایس ڈی پی آئی کی سربراہ برائے ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی زینب نعیم نے وفد کو ادارے کے قیام، مشن اور وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی آئی کے بنیادی شعبوں میں تحقیق، پالیسی کے لیے وکالت اور استعدادِ کار میں اضافہ شامل ہیں، جبکہ ادارہ ماحول و موسمیاتی تبدیلی، معاشی ترقی، لچک اور نظامی تجزیے سمیت مختلف موضوعات پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ادارے کے اہم تحقیقی مراکز، ڈیٹا منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا بھی ذکر کیا۔زینب نعیم نے بتایا کہ پائیدار ترقی کانفرنس (ایس ڈی سی) ایس ڈی پی آئی کی سب سے اہم سالانہ سرگرمی ہے اور اس کا 29واں اجلاس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہوگا۔ دیگر اہم منصوبوں میں ساؤتھ ایشیا اکنامک سمٹ، سسٹین ایبلٹی ایوارڈز اور سسٹین ایبل انویسٹمنٹ ایکسپو شامل ہیں۔قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے مفاہمت کی یادداشت کو دونوں اداروں کی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کا اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کو محض روایتی معاہدے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے نتیجہ خیز تحقیقی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے اور دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے بھی دونوں اداروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ معاشیات جیسے دو ممتاز اداروں کا اشتراک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی طلبہ کو مضبوط علمی اور انتظامی صلاحیتیں فراہم کرتی ہے، تاہم عملی اور مارکیٹ کے ماحول سے مزید واقفیت کے لیے انہیں مواقع درکار ہوتے ہیں، جو ایس ڈی پی آئی کے ذریعے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر دونوں اداروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری معیاری تحقیقی کام، مؤثر پالیسی رابطے اور طلبہ و محققین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔