وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک استحکام سے نمو کی جانب گامزن ہے، برآمدات پر مبنی نمو کےلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، حکومت مالی گنجائش کے مطابق برآمدات پر مبنی نمو کو فروغ دینے کےلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
سرکاری اور نجی شعبے کی مضبوط شراکتداری سے معیشت پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھ سکتی ہے، وزیر خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک استحکام سے نمو کی جانب گامزن ہے، برآمدات پر مبنی نمو کےلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، حکومت مالی گنجائش کے مطابق برآمدات پر مبنی نمو کو فروغ دینے کےلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
پیر کو یہاں ایگزم بینک کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت ضروری ہے، سرکاری اور نجی شعبے کی مضبوط شراکتداری سے معیشت پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھ سکتی ہے، معاشی سرگرمیوں کا عمل سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے جڑا ہے، حکومت معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار ترقی کےلئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک اس وقت استحکام سے نمو کی جانب گامزن ہے، چند سال قبل ہماری معیشت سکڑ گئی تھی تاہم بتدریج بحالی کا عمل جاری ہے، گزشتہ سال اقتصادی نمو کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، رواں سال اس سے زیادہ کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران سے مہنگائی اور مجموعی قومی پیداوار پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں اتار چڑھائو کے سائیکل کی وجہ سے ادائیگیوں میں توازن کے مسائل پیش آئے تھے، ہماری کوشش ہے کہ برآمدات پر مبنی نمو اور اسے پائیدار بنیادوں پر جاری رکھنے پر توجہ دی جائے، اس وقت مالی خسارہ 22 برسوں کی کم ترین سطح پر ہے، پرائمری بیلنس کی صورتحال بھی بہتر ہے، گزشتہ سال حسابات جاریہ کے کھاتے فاضل رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے لئے نمو نہیں بلکہ نمو کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانا ایک چیلنج ہے اس کےلئے نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی نمو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بطور حکومت ہمارا کردار متوازن اور موزوں ایکو سسٹم کی فراہمی ہے، حکومت مالی گنجائش کے مطابق برآمدات پر مبنی نمو کو فروغ دینے کےلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، گزشتہ اور جاری مالی سال کے بجٹ میں اس حوالے سے کئی اقدامات کئے گئے تھے، سپر ٹیکس کا خاتمہ کیا گیا، ایڈوانس ٹیکس میں بھی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، توانائی کی قیمتوں مسابقتی بنانے کےلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مسابقتی مالیات کےلئے ہماری کوششیں جاری ہیں، اگرچہ مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے معیشت پر اثرات مرتب ہوئے اور پالیسی ریٹ میں اضافہ ہوا تاہم اس کے باوجود حکومت صورتحال میں بہتری کےلئے اقدامات کر رہی ہے، برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی شرح سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اس ضمن میں ایگزم بینک پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے، حکومت ایکسپورٹ ری فنانسنگ کے لئے اقدامات کر رہی ہے،ایل ٹی ایف ایف پر عملدرآمد ہو چکا ہے، ہماری کوشش ہے کہ برآمدات کی بنیاد کو وسیع البنیاد اور متنوع بنایا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات کے فروغ میں چھوٹےاور درمیانے درجے کے کاروبار کی اہمیت مسلم ہے اور حکومت کوشش کر رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے برآمد کنندگان کو سبسڈائز مالیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔








