این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے بالائی علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے بالائی علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے نتیجے میں دریائوں کے بہائو میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ پیر کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اور خطہ پوٹھوہار میں …

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے بالائی علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے نتیجے میں دریائوں کے بہائو میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ پیر کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اور خطہ پوٹھوہار میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ممکنہ بارش کے نتیجے میں اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے۔

گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، سکردو، استور اور شگر سمیت مختلف علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، صوابی اور مردان سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ آزاد کشمیر کے باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی میں بھی سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سمیت خطہ پوٹھوہار کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال جبکہ ندی نالوں میں ظغیانی کا خدشہ ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، شیخوپورہ، نارووال، قصور، اوکاڑہ، منڈی بہائوالدین، وزیرآباد، حافظ آباد اور سرگودھا کے علاقوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ نوشہرہ، صوابی، مردان اور دیگر نشیبی اور شہری علاقوں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہائو کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں، سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں۔مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں، اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہائو کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہائو والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہائو میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے، لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہائو والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔

احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے، عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ سے بروقت معلومات حاصل کریں ، کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال میں مدد کے لیے 911ڈائل کریں۔

مزید خبریں