مالی دباؤ اور سماجی شعبے کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر حکومت، اقوام متحدہ اور پالیسی ماہرین نے صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ کے لئے متبادل اور مشترکہ مالیاتی ذرائع بروئے کار لانے پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ زکوٰۃ، خیرات، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، موسمیاتی فنانس اور سوشل بانڈز سرکاری مالی اعانت کا متبادل نہیں بلکہ اس کے معاون ہونے چاہئیں۔
سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کےلئے متبادل مالی ذرائع آزمائے جائیں، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ماہرین کا پالیسی راؤنڈ ٹیبل ’’فنانسنگ دی فیوچر: پاکستان کے سماجی شعبے کےلئے مربوط مالیاتی حکمتِ عملی‘‘سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):مالی دباؤ اور سماجی شعبے کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر حکومت، اقوام متحدہ اور پالیسی ماہرین نے صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ کے لئے متبادل اور مشترکہ مالیاتی ذرائع بروئے کار لانے پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ زکوٰۃ، خیرات، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، موسمیاتی فنانس اور سوشل بانڈز سرکاری مالی اعانت کا متبادل نہیں بلکہ اس کے معاون ہونے چاہئیں۔
اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور یونیسف پاکستان کے زیر اہتمام، جی آئی زیڈ کے تعاون سے ’’فنانسنگ دی فیوچر: پاکستان کے سماجی شعبے کےلئے مربوط مالیاتی حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطح کی پالیسی راؤنڈ ٹیبل میں کیا گیا۔تقریب میں ’’فنانسنگ دی فیوچر‘‘ اقدام اور اس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا گیا۔وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا کہ متبادل مالیاتی ذرائع کو پہلے محدود پیمانے پر آزمانے کے بعد شفاف انداز میں چلایا اور نتائج کا سخت جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اخراجات میں اضافے اور ان کی شفاف رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے وفاقی ترقیاتی پروگرام اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں میں بہتر رابطے، منصوبوں کی تکرار روکنے اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔
یونیسف پاکستان کی ڈپٹی نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ اضافی مالی وسائل کی تلاش کا مرکز بچوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی ذرائع کی کامیابی کا پیمانہ صرف جمع ہونے والی رقم نہیں بلکہ اس کی شفافیت، مساوات، تسلسل اور نتائج ہیں۔ عدنان پاشا نے کہا کہ پاکستان میں انسانی ترقی کو سماجی اخراجات نہیں بلکہ اہم بنیادی ڈھانچہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نجی اور فلاحی سرمایہ کاری کےلئے مضبوط احتساب اور نتائج پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ نجی سرمایہ کاری ’’مفت کا کھانا‘‘ نہیں، اس کے بدلے قابلِ پیمائش سماجی اور مالی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے تحقیق ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ صحت، بچوں اور سماجی تحفظ پر خرچ دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے اور سماجی ضروریات کے مقابلے میں صوبائی وسائل محدود ہیں، اس لئے محصولات میں اضافہ، اخراجات کی ترجیحات، بہتر کارکردگی اور متبادل مالی وسائل کو مربوط کرنا ہو گا۔ یونیسف پاکستان کی چیف آف سوشل پالیسی صدف ذوالفقار نے کہا کہ 2023 کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں سالانہ کارپوریٹ فلاحی معاونت تقریباً 30 کروڑ ڈالر ہے تاہم کمزور اعتماد، محدود شفافیت اور ادارہ جاتی رابطے کا فقدان اس صلاحیت سے مکمل فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈاکٹر شفقت منیر نے یونیسف، جی آئی زیڈ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے دفتر کے نمائندے شاہ محمد اظہر نے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے پائیدار سماجی شعبے کی مالی اعانت کے لئے اپنے دفتر کے تعاون کا یقین دلایا۔شرکاء نے اتفاق کیا کہ سماجی شعبے کے مالی مسائل کا حل کسی ایک ذریعے میں نہیں بلکہ سرکاری وسائل، نجی سرمایہ، زکوٰۃ، عطیات اور جدید مالیاتی ذرائع کو شفاف اور نتائج پر مبنی نظام میں یکجا کرنے میں ہے۔








