وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین سٹریٹجک شراکت داری کا اگلا مرحلہ برآمدات، جدید زراعت اور نالج اکانومی کے فروغ کے ذریعے پاکستان کو معاشی طور پر خود مختار بنانے پر مرکوز ہے۔
پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کا اگلا مرحلہ معاشی خود انحصاری کی بنیاد رکھے گا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین سٹریٹجک شراکت داری کا اگلا مرحلہ برآمدات، جدید زراعت اور نالج اکانومی کے فروغ کے ذریعے پاکستان کو معاشی طور پر خود مختار بنانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران طے پانے والے پانچ سالہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے ایک سال مکمل ہونے پر جائزہ اجلاس میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سی پیک فیز ٹو اور ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک ملک کی صنعتی اور معاشی ترقی کے اہم ستون ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نوجوان نسل کو جدید آئی ٹی ہنر سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ جدید زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
چین کے تعاون سے ایک ہزار نوجوانوں کو جدید زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور ملک میں ’’گرین ریوولوشن 2.0‘‘ کی بنیاد رکھنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات میں تیز رفتار اضافہ اور ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کو ایک قابلِ فخر، معیاری اور عالمی سطح پر مسابقتی برانڈ بنانا ہے۔ معاشی خود انحصاری کے موجودہ مرحلے میں تمام وزارتوں کو مقررہ اہداف پر 100 فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔








