پاکستان نے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ” کی قانون سازی کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو مستحکم کیا ہے، شزہ فاطمہ خواجہ کا لیپ کانفرنس سے خطاب، "ٹیک ڈسٹینیشن پاکستان پویلین” کا افتتاح

پاکستان نے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ” کی قانون سازی کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو مستحکم کیا ہے، شزہ فاطمہ خواجہ کا لیپ کانفرنس سے خطاب، "ٹیک ڈسٹینیشن پاکستان پویلین” کا افتتاح

ریاض۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان نے ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ‘‘ کی قانون سازی کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو مستحکم کیا ہے، ادارہ جاتی ملکیت کو یقینی بنانے کے لئے ’’نیشنل ڈیجیٹل کمیشن‘‘ اور ’’پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی‘‘ قائم کی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں منعقدہ ’’لیپ 2026 ‘‘ کانفرنس سے ’’ہم نے ڈیجیٹل قوم کیسے بنائی‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے ’’ٹیک ڈسٹینیشن پاکستان پویلین‘‘ کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔​اپنے کلیدی خطاب میں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ‘‘ کی قانون سازی کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو مستحکم کیا ہے، اس کے تحت ادارہ جاتی ملکیت کو یقینی بنانے کے لئے ’’نیشنل ڈیجیٹل کمیشن‘‘ اور ’’پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی‘‘ قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانونی بنیاد کو کنکٹیویٹی اور مسابقت میں سرمایہ کاری کے ذریعے تقویت دی گئی ہے جس میں سپیکٹرم (فائیو جی ) کی سب سے بڑی نیلامی، خصوصی ٹیکنالوجی زونز کا قیام اور آئی ٹی انڈسٹری کے لئے ٹیکسوں میں کمی شامل ہے۔​

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کا یہ سفر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کی رہنمائی میں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے جاری ہے جس کی صدارت وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں جبکہ اس میں تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے پاکستان اب ایک قومی ڈیجیٹل سٹیک تیار کر رہا ہے جو نوجوان افرادی قوت، سیاسی و اقتصادی استحکام اور پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ مل کر ملک کو خطے کی سب سے پرکشش سرمایہ کاری کی مقاصد میں سے ایک بناتا ہے۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ ترقی کے لئے حکومت کی حکمتِ عملی جدت، شراکت داری اور ہوشمندانہ سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔​پاکستان کے ڈیجیٹل سفر کے تجربات و نکات شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتیں ٹھوس پالیسی سازی اور مضبوط اداروں کے ذریعے پیش رفت کرتی ہیں جس سے ایسا سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی کو مؤثر طریقے سے عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مخصوص مرکزی ڈیجیٹل ایجنسی انتہائی ضروری ہے، جبکہ نظم و ضبط اور قابلِ پیمائش کے پی آئیز بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کو مرکوز اور درست سمت میں رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ریاست کا بنیادی کردار بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے جو نجی شعبے کو جدت طرازی اور مزید پیشرفت کے لئے بااختیار بناتا ہے، نیز حقیقی ڈیجیٹل پیش رفت شراکت داری کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔​اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل جدت، صلاحیتوں میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجیز میں مسلسل تعاون سے دونوں ممالک کے لئے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

​اس سے قبل دن کے آغاز میں وفاقی وزیر نے’’ٹیک ڈسٹینیشن پاکستان پویلین‘‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا جس میں 25 سٹارٹ اپس اور 50 معروف پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں اپنے جدید حل پیش کر رہی ہیں۔ ’’لیپ 2026″ میں پاکستان کی شرکت کا مقصد بزنس ٹو بزنس شراکت داریوں کو فروغ دینا، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے کے لئے عالمی مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دینا ہے، جبکہ بین الاقوامی کاروباری نیٹ ورکس کو مضبوط بنانا اور ٹیکنالوجی کی برآمدات کے لئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

مزید خبریں