اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی

اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی

لاہور۔1ستمبر (اے پی پی):وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی اور جدید تعلیمی نظام کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے، جدید تعلیمی تقاضوں اور رجحانات سے ہم آہنگ رہنے کے لیے ہمارے اساتذہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ، اخلاقی اور موثراستعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سکل ڈویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت کا اخلاقی اورموثر استعمال کے موضوع پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ مکمل کرنے والے فیکلٹی ممبران کے اعزاز میں تقریبِ تقسیم اسناد سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر ڈائریکٹرسکل ڈویلپمنٹ سنٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امتیاز شفیق، فیکلٹی ممبران و دیگرنے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے یونیورسٹی اساتذہ کے لیے وقت کی اہم ضرورت کے مطابق کامیاب ورکشاپ کے انعقاد پر سکل ڈویلپمنٹ سینٹرکی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پہلے ہی مختلف تعلیمی شعبوں اور ڈگری پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔

پروفیسرڈاکٹر محمد امتیاز شفیق نے فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے اقدامات میں گہری دلچسپی، مسلسل سرپرستی اور بصیرت افروز قیادت پر وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے شرکا کو عملی تربیت پر مبنی اس ورکشاپ کے بنیادی مقاصد اور حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا۔ تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ نے کامیاب ورکشاپ کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے ان کی تدریسی صلاحیتوں، تحقیقی سرگرمیوں اور روزمرہ تعلیمی امور میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر نے ورکشاپ کے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔