دنیا میں تجارت کے بدلتے تقاضوں کے باعث مصنوعات کی قیمت اور معیار کے ساتھ ان کے کاربن اخراج کو بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے، یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کے نفاذ سے پاکستانی برآمدات بالخصوص ٹیکسٹائل کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
کاربن اخراج کی پیمائش، تصدیق اور دستاویز بندی کا موثر نظام ناگزیر، ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):دنیا میں تجارت کے بدلتے تقاضوں کے باعث مصنوعات کی قیمت اور معیار کے ساتھ ان کے کاربن اخراج کو بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے، یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کے نفاذ سے پاکستانی برآمدات بالخصوص ٹیکسٹائل کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گرین ٹیکنالوجی، آسان مالی معاونت، موثر کاربن پیمائش اور چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے خصوصی سہولتوں کا فوری انتظام کیا جائے۔
یہ سفارشات ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس میں سامنے آئیں۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ بحث کو محض اختلاف رائے سے آگے بڑھا کر عملی مسائل اور ان کے حل پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ پالیسی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں جو خلا ءموجود ہیں، انہیں کس طرح پُر کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تقریباً تین دہائیوں پر محیط موسمیاتی مذاکرات کے دوران کئے گئے وعدوں کا اعدادوشمار اور شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے کہ کیا حاصل ہوا اور کیا ابھی باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سبز صنعتی ترقی کا ایسا ماڈل اپنانا ہوگا جس میں حکومت اور نجی شعبہ ایک دوسرے کے شریک بنیں۔

انہوں نے کہا کہ خودمختار حکومتی ضمانتوں کے ذریعے فراہم کیا جانے والا سرکاری مالی تعاون صنعتوں کو نسبتاً آسان شرائط پر موسمیاتی فنانس تک رسائی دلا سکتا ہے جو ملک کی سبز صنعتی منتقلی میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے موسمیاتی کانفرنسوں میں نجی شعبے کی موثر شرکت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکراتی عمل کو کمزور ہونے سے بچانے کےلئے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک متحد اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔اجلاس کے آغاز میں ایس ڈی پی آئی کے صنعتی ڈیکاربونائزیشن منصوبے کی سربراہ صالحہ قریشی نے کہا کہ سی بی اے ایم کو اب صرف رپورٹنگ یا ضابطوں کی پابندی کا معاملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
یہ عالمی تجارت کے قواعد میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے جس کا دبائو ترقی پذیر ممالک پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد ترقی پذیر معیشتوں، خصوصاً پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کےلئے ایسے عملی نکات سامنے لانا ہے جن کی مدد سے وہ بدلتے ہوئے عالمی تجارتی اور موسمیاتی نظام کا مقابلہ کرسکیں۔انہوں نے COP31 کے لیے چند اہم ترجیحات بھی بیان کیں۔IRENA کے الیکسی لومی یاروی نے کہا کہ سی بی اے ایم اور کاربن کریڈٹ نظام کے باعث تجارتی و موسمیاتی پالیسیوں کو یکجا دیکھنا ہوگا جبکہ صنعت میں توانائی کی بچت اور بجلی پر منتقلی کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔یائل ترانتو نے ترکیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کم کاربن اور زیادہ قدر والی مصنوعات کی تیاری کے لئے قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کے ساتھ سبز سرمایہ کاری کو بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لئے قابلِ عمل بنانا ہوگا۔

IEEP کی کورینا فرسٹ نے کہا کہ سی بی اے ایم کے اثرات مقامی سطح پر برآمدات، سرکاری آمدنی اور روزگار کو متاثر کرسکتے ہیں جبکہ کھاد اور فولاد جیسے شعبے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نظام کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے اس لئے پاکستان کو کاربن اخراج کی موثر پیمائش، تصدیق اور دستاویز بندی کا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ برآمدات پر کاربن لاگت کم کی جاسکے۔معین ٹیکسٹائلز کے عمران شہزاد نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو سبز توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاہم مہنگی ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے محدود وسائل اور سرمایہ کاری کی کمی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی ایک موثر حل ہے مگر 24 گھنٹے چلنے والی صنعت کے لئے سٹوریج کی سہولت ضروری ہے۔
انہوں نے یورپی خریداروں اور برانڈز پر زور دیا کہ پاکستانی صنعت کی قابل تجدید توانائی کےلئے کی جانے والی سرمایہ کاری اور کوششوں کو بھی تسلیم کیا جائے۔ مشہود عرفی نے کہا کہ سی بی اے ایم سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو اچانک سخت اقدامات کے بجائے پہلے برآمد کنندگان کی آگاہی اور رہنمائی پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نےMRV نظام، مالی معاونت اور حکمرانی میں اصلاحات کو اہم قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبیدالرحمٰن ضیا نے کہا کہ موسمیاتی اقدامات کو تجارت کےلئے بالواسطہ رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ پاکستان کی یورپی منڈی پر انحصار کے باعث سی بی اے ایم ایک بڑا چیلنج ہے تاہم بلینڈڈ فنانس، جدید ڈیکاربونائزیشن ٹیکنالوجی، بہتر MRV اور سازگار پالیسی ماحول کے ذریعے اسے پاکستانی صنعت کی بہتری اور عالمی مسابقت بڑھانے کے موقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔







