اسلام آباد میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، ری چارج اقدامات کو وسعت دینا ہوگی، مصدق ملک

وفاقی وزیر برائےموسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اسلام آباد میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانی کے ری چارج کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔منگل کو ’’اسلام آباد کے زیر زمین آبی ذخائر کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے …

اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےموسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اسلام آباد میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانی کے ری چارج کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔منگل کو ’’اسلام آباد کے زیر زمین آبی ذخائر کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً 200 ری چارج کنویں تعمیر کیے جا چکے ہیں جو ایک اہم پائلٹ منصوبہ ہے تاہم اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ری چارج اقدامات کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً 0.4 ملی میٹر اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پانی کی سطح میں تقریباً 1.5 میٹر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری چارج کی سرگرمیوں کو اس حد تک بڑھانا ہوگا کہ زیرِ زمین پانی کے مسلسل اخراج میں کمی لائی جا سکے اور بالآخر پانی کی سطح میں کمی کے رجحان کو واپس پلٹا جا سکے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ری چارج کنوئوں کامنصوبہ ایک اہم کامیابی ہے تاہم اسے مسئلے کا حتمی حل تصور نہیں کیا جا سکتا، زیر زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے مسلسل اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے حالیہ شدید بارشوں کے تناظر میں سطحی اور زیر زمین پانی کے بہتر انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے باعث شہر کے مختلف علاقے متاثر ہوئےجبکہ متعلقہ حکام اور اداروں کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے پانی کے معیار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پانی کی صفائی کے پلانٹس کام کر رہے ہیں، ان ٹریٹمنٹ پلانٹس سے صاف کیے جانے والے پانی میں آلودگی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے تاہم پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی اور بہتری پر توجہ دینا ضروری ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے مزیدپانی کے ایک اضافی ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ منصوبہ کئی سال سے زیر التواء ہے، حالانکہ اس کے لیے متعدد مرتبہ ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں تاخیر صرف کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں میں بھی یہ مسئلہ دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر حال ہی میں پیش رفت ہوئی ہے اور ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے آبی مفادات کے تحفظ اور پانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقہ کار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل پر انحصار کرنے والے ممالک کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا اور قواعد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے ’’کلین انوائرمنٹ فنڈ‘‘ قائم کیا ہے جس میں ماحولیاتی اقدامات کی معاونت کے لیے نجی شعبے کی شمولیت اور مناسب جانچ پڑتال کا نظام شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدیداورتخلیقی طریقہ کار، نیز نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔وفاقی وزیر نے نئی آبادیوں، ہائوسنگ سکیموں اور عمارتوں کی چھتوں پر زیرِ زمین پانی کے ری چارج کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی کے اقدامات کی بھی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کا تحفظ شہری آبادیوں کے تحفظ اور مستقبل میں پانی کی پائیدار دستیابی یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے اسلام آباد کے ایکوائرز کے تحفظ اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔