دعوے سے بڑھ کر ریلیف نہیں دے سکتے، اپیلٹ کورٹ نیا کیس تشکیل نہیں دے سکتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو ایسا ریلیف نہیں دے سکتے جو دعوے میں واضح طور پر طلب ہی نہ کیا گیا ہو،

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو ایسا ریلیف نہیں دے سکتے جو دعوے میں واضح طور پر طلب ہی نہ کیا گیا ہو، اپیلٹ کورٹ بھی مکمل انصاف کے لیے حکم، فیصلے یا ڈگری میں ترمیم کر سکتی ہے تاہم ایسا کرتے ہوئے نیا کیس یا ایسا سببِ دعویٰ تشکیل نہیں دے سکتی جو ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہی نہ کیا گیا ہو۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ میسرز کریسنٹ سپننگ ملز لمیٹڈ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے 7 فروری 2019 کے فیصلے کے خلاف دائر سول پٹیشن پر سنایا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سول مقدمات میں عمومی اصول یہ ہے کہ عدالت دعوے میں واضح طور پر طلب کیے گئے ریلیف سے تجاوز نہیں کر سکتی۔

فیصلے میں الٹرا پیٹیٹا اور ایکسٹرا پیٹیٹا کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت کا دائرہ اختیار ان معاملات تک محدود ہوتا ہے جو فریقین کی جانب سے حل کے لیے اس کے سامنے پیش کیے جائیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ عمومی استدعا کہ عدالت مناسب اور موزوں سمجھے تو کوئی اور ریلیف بھی دے سکتی ہےایسے ریلیف کی بنیاد نہیں بن سکتی جس کا دعوے میں واضح طور پر مطالبہ نہ کیا گیا ہو، جب تک وہ ریلیف ریکارڈ پر موجود حقائق اور شواہد سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہ ہو۔فیصلے کے مطابق اپیلٹ کورٹ ضابطہ دیوانی کے آرڈر 41 رول 33 کے تحت فریقین کے درمیان مکمل انصاف کے لیے حکم، فیصلے یا ڈگری میں ترمیم، اس کی تشکیل نو یا ضروری تبدیلی کر سکتی ہے، تاہم اسے ایسا ریلیف دینے کا اختیار نہیں جو کبھی دعوے میں طلب ہی نہ کیا گیا ہو۔

عدالت نے کہا کہ ریلیف کو ڈھالنےکا اصول پہلے سے ریکارڈ پر موجود حقائق اور شواہد پر مبنی ہوتا ہے، اس کے ذریعے ایک بالکل نیا کیس نہیں بنایا جا سکتا۔مقدمے کے حقائق کے مطابق سٹی بینک نے 1995 میں کریسنٹ سپننگ ملز کے خلاف تقریباً 7 کروڑ 62 لاکھ روپے کی رقم کی وصولی کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ بینکنگ کورٹ نے 15 اکتوبر 1999 کو دعویٰ منظور کرتے ہوئے رقم کی ڈگری جاری کی تاہم مارک اپ یا لیکویڈیٹڈ ڈیمیجز کا دعویٰ منظور نہیں کیا ۔بعد ازاں بینک کی جانب سے ضابطہ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت درخواست دائر کی گئی جس پر ڈگری میں مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ سے رقم کی ادائیگی تک مارک اپ شامل کر دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس ترمیم کو برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بینک کی اصل درخواست میں مقدمہ دائر ہونے سے وصولی تک مارک اپ کا دعویٰ موجود نہیں تھا اس لیے اسے محض ضابطہ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت ڈگری میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔عدالت نے درخواست گزار کی سول پٹیشن منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا اور واضح کیا کہ 1997 کے بینکنگ قانون کے تحت منتقل ہونے والے مقدمات میں عدالت کو کارروائی اسی مرحلے سے جاری رکھنی ہوتی ہے جہاں سابقہ قانون کے تحت کارروائی پہنچی تھی، تاہم اس منتقلی سے فریقین کے بنیادی حقوق اور دعوے کی نوعیت تبدیل نہیں ہو تی۔فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔

مزید خبریں