اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نےدنیا بھر میں زندگی بدلنے والی معاون ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کو بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں سستا اور قابلِ رسائی بنانے بارے پاکستان کی قیادت میں پیش کی گئی تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،
اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی نےعالمی سطح پر معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے سے متعلق پاکستان کی قیادت میں پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔3ستمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نےدنیا بھر میں زندگی بدلنے والی معاون ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کو بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں سستا اور قابلِ رسائی بنانے بارے پاکستان کی قیادت میں پیش کی گئی تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،
’’معاون ٹیکنالوجی تک رسائی‘‘کے عنوان سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی قرارداد ہے، یہ اقدام اس بنیادی اصول کی عالمی سطح پر وسیع حمایت کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب وہ انسانی صلاحیتوں اور امکانات کو وسعت دے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاون ٹیکنالوجی میں وہیل چیئرز، مصنوعی اعضا، سماعت کے آلات، مواصلاتی آلات،سکرین ریڈرز اور دیگر ڈیجیٹل حل شامل ہیں جو معذور افراد،معمر اور بعض صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو زیادہ خودمختاری اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف مصنوعات یا آلات نہیں بلکہ انحصار و خودمختاری، محرومی و شمولیت اور صلاحیت و مواقع کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم دنیا میں لاکھوں افراد اب بھی ان سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2.5 بلین افراد کو معاون مصنوعات کی ضرورت ہے لیکن لاکھوں افراد کو قیمتوں میں اضافے، دستیابی کے مسائل، ٹیکنالوجی تک محدود رسائی، ناکافی بنیادی ڈھانچے اور خدمات اور تربیت یافتہ افراد کی کمی جیسی رکاوٹوں کے باعث مناسب سہولیات میسر نہیں۔ قرارداد میں معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسیع تر ترقیاتی اور سماجی شمولیت کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا گیا اور اس میں تعلیم، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور معاشرے میں بامعنی شرکت کو تسلیم کیا گیا ۔
قرارداد میں معیاری اور سستی معاون ٹیکنالوجی تک پائیدار رسائی،ممالک کو قومی حکمتِ عملی اور ترجیحی معاون مصنوعات کی فہرستیں تیار کرنے ،تحقیق ، جدت، بہتر اعداد و شمار اور موثر خریداری کے نظام کو فروغ دینے ،معاون ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی بامعنی شمولیت کا مطالبہ کیا گیا ۔ ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے قرارداد میں بین الاقوامی تعاون، مالی معاونت اور تکنیکی مدد مضبوط بنانے پر زور دیا گیا خصوصاً ان ممالک کے لیے جہاں وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت محدود ہے۔ قرارداد میں اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا کہ بحرانوں کے دوران معاون ٹیکنالوجی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی اس لیےمطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلح تنازعات اور قدرتی آفات سمیت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تیاری اور امدادی کارروائیوں میں معاون ٹیکنالوجی کو منظم طور پر شامل کیا جائے۔
حکام نے کہا کہ اس قرارداد کا مسودہ تیار کرنے اور مذاکرات میں اہم کردار اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے ادا کیا۔ وہ پاکستان کی پہلی بصارت سے محروم کیریئر سفارت کار ہیں اور خود بھی معاون ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے صائمہ سلیم کی انتھک محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نابینا شخص کے لیے سکرین ریڈر کمپیوٹر یا سمارٹ فون کو تعلیم، معلومات اور روزگار تک رسائی کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح وہیل چیئر کسی شخص کے لیے سکول یا دفتر تک پہنچنے کا راستہ کھول سکتی ہے، سماعت کا آلہ ایک بچے کو استاد سے مربوط کر سکتا ہے جبکہ مصنوعی اعضا نقل و حرکت اور خودمختاری بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان اس معاملے پر طویل عرصے سے عالمی سطح پر قیادت کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی قرارداد 71.8 پیش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جو معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے سے متعلق تھی اور 2018 میں اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی ۔







