اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار پابندیوں، عدم تحفظ اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود غزہ میں امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، او سی ایچ اے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا ہے کہ جاری پابندیوں، عدم تحفظ اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر امدادی سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ ۔4ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا ہے کہ جاری پابندیوں، عدم تحفظ اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر امدادی سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شنہوا کے مطابق غزہ میں موجود اقوام متحدہ کی ٹیموں نے کیرم شالوم/کیرم ابو سالم کراسنگ سے امدادی سامان کی سینکڑوں پیکٹ وصول کیے جن میں بالغ افراد کے لیے ڈائپرز، سکول بیگز اور شیر خوار بچوں اور کم عمر بچوں کے لیے اضافی غذائی اشیا ءشامل تھیں۔مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار رامز الاکباروف نے غزہ کا اپنا تین روزہ دورہ مکمل کیا۔انہوں نے زور دیا کہ بارشوں کے موسم اور موسمِ سرما کی تیاری بدستور اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے عطیہ دہندگان کی جانب سے اضافی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

او سی ایچ اےکے مطابق ان کوششوں کے لیے اسرائیلی حکام کو پابندیاں ختم کرنا اور ضروری آلات، انجن آئل اور دیگر مطلوبہ سامان غزہ میں داخل کرنے کی درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنا بھی ضروری ہے۔عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے غزہ سے 13,000 سے زائد مریضوں کو طبی انخلا کے ذریعے علاج کے لیے باہر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی ہے، جن میں 6,000 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے زور دیا کہ ہزاروں مریضوں کو اب بھی فوری طور پر ایسے خصوصی طبی علاج کی ضرورت ہے جو غزہ میں دستیاب نہیں۔ ادارے نے مغربی کنارے میں مریضوں کو ریفر کرنے کے راستے کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا، جس میں مقبوضہ بیت المقدس کے ہسپتال بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کے صحت کے نظام کی بحالی اور طبی سامان کی فراہمی کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ طبی انخلا پر انحصار کم کیا جا سکے۔

موجودہ طور پر محدود اشیاء جن میں ایمبولینسز اور طبی آلات شامل ہیں کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔او سی ایچ اےنے بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے الخلیل میں خربت الطبان کی بستی کو مسمار کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے وہاں کا دورہ کیا اور بے گھر ہونے والے افراد کی ضروریات کا جائزہ لیا۔بستی کے مرد ارکان نے اپنی بھیڑوں کے ساتھ غاروں میں گزاری، جبکہ خواتین نے ایک خیمے میں رات گزاری۔ او سی ایچ اے کے مطابق امدادی شراکت داروں نے بے گھر افراد کو خیمے اور کمبل فراہم کیے۔اقوام متحدہ کے دفتر نے کہاکہ’’اقوام متحدہ ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں رہنے والے تمام فلسطینیوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ ایک قابض طاقت کے زیرِ قبضہ آبادی ہیں۔

آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل، تعلیمی شعبے سے وابستہ شراکت داروں نے بتایا کہ بعض اساتذہ کو مقبوضہ بیت المقدس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق سال کی پہلی ششماہی کے دوران مغربی کنارے میں 224 واقعات نے تعلیم کے شعبے کو متاثر کیا۔ ان واقعات سے 20,000 سے زائد لڑکے اور لڑکیاں اور 850 تعلیمی عملہ براہِ راست متاثر ہوا۔او سی ایچ اےکے مطابق، ریکارڈ کیے گئے واقعات میں تین چوتھائی سے زیادہ واقعات رسائی سے متعلق پابندیوں اور آبادکاروں کے تشدد پر مشتمل تھے۔