اقوام متحدہ کےادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ نیپال میں بھوٹے کوشی-تریشولی دریائی بیسن میں اچانک آنے والے سیلاب کو ایک ہفتے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی 22ہزار بچوں کو پینے کے صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی فوری امداد درکار ہے۔
نیپال میں سیلاب کے باعث 22ہزار بچے صاف پانی سے محروم ہیں، یونیسف

مزید خبریں
کھٹمنڈو۔4ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کےادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ نیپال میں بھوٹے کوشی-تریشولی دریائی بیسن میں اچانک آنے والے سیلاب کو ایک ہفتے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی 22ہزار بچوں کو پینے کے صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی فوری امداد درکار ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق نیپال میں یونیسف کی نمائندہ ایلس اکونگا نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں پانی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ بیت الخلا اور صفائی کی دیگر سہولیات بھی خراب یا تباہ ہو گئی ہیں، جس کے باعث پانی سے پھیلنے والی اور متعدی بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ان اضلاع میں والدین اب دن میں کئی مرتبہ ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں: مجھے پانی کہاں سے ملے گا، اور کیا یہ میرے بچے کو دینے کے لیے محفوظ ہے؟‘‘یونیسف نے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل رسووا اور نواکوٹ میں تقریباً 19ہزار افراد کے لیے پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کا سامان پہنچایا ہے۔
اس سامان میں 3,800 سے زیادہ حفظانِ صحت کٹس، 10 لیٹر کی گنجائش والے 3,300 پانی کے کنستر، 3,500 بالٹیاں، ایک لیٹر کی گنجائش والے 3,500 مگ، پانی صاف کرنے والے محلول کی 4,000 بوتلیں اور 1,000 سے زیادہ ترپالیں شامل ہیں۔یونیسف کا عملہ حکومتی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر بیماریوں کی نگرانی، حفظانِ صحت کے بارے میں آگاہی اور وباؤں کی روک تھام کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔یونیسف کے اندازے کے مطابق تباہ کن سیلاب سے 19 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 8 مکمل طور پر اور 8 جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سکول جانے کی عمر کے10ہزارسے زیادہ بچوں کو فوری طور پر نفسیاتی امداد اور محفوظ تعلیمی مقامات تک رسائی کی ضرورت ہے۔








