پاکستان علماء کونسل کی بلوچستان حملے کی شدید مذمت، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، طاہر اشرفی

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بلوچستان میں پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں بالآخر پاکستان میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گی۔ جمعہ کو اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ …

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بلوچستان میں پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں بالآخر پاکستان میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گی۔

جمعہ کو اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور سیکیورٹی ادارے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں قوم، عوام اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے بہادری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق وطن کی سرحدوں کی حفاظت اور لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ایک مقدس اور عظیم ذمہ داری ہے، اور اس فریضے کی انجام دہی کرنے والے افراد عزت، احترام اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر افسوس اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ مبینہ طور پر شہید اہلکاروں کی لاشوں کی بے حرمتی اور انہیں نذرِ آتش بھی کیا، جو انسانی وقار اور اسلامی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلام انسانی لاشوں کی بے حرمتی کی سختی سے ممانعت کرتا ہے، حتیٰ کہ جنگ کے حالات میں بھی۔ انہوں نے قرآن کریم میں بیان کردہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسانی جان کے ساتھ ساتھ مرنے کے بعد بھی انسان کی تکریم اور تدفین کی کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

اشرفی نے کہا کہ ایسے سفاکانہ اقدامات میں ملوث عناصر کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ انسانیت سے اور نہ ہی بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے عوام سے۔ ان کے مطابق یہ عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والی قوتوں کے آلۂ کار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک ماضی میں بھی فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے ایسے ہی پرتشدد اقدامات دیکھ چکا ہے، جن میں مساجد، عام شہریوں، پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا اور انسانی جان کی حرمت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور وہ تمام مشکلات کے باوجود ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کا فریضہ جاری رکھیں گے۔اشرفی نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار اور مقام کو بھی نمایاں کیا ہے، جبکہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کے بعد دشمن قوتوں نے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔اشرفی نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متحد ہے اور انہیں یقین ہے کہ ملک میں امن اور استحکام مزید مضبوط ہوگا، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دینے والی تمام قوتیں، جن میں نام نہاد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کے حامی اور ان کے بھارتی حواری بھی شامل ہیں، اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوں گے۔اشرفی نے دہشت گردی کے خاتمے اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے علماء و مشائخ، سیاسی قیادت، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کو اتحاد و اتفاق سے ناکام بنانا ہوگا۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں کی عظیم قربانیاں ملک میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے قوم کے عزم کو مزید مضبوط کرتی رہیں گی۔