پاکستان میں یونان کی سفیر ایلینی پوریکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور یونان کے درمیان باہمی تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، بالخصوص کاروباری سطح پر براہِ راست روابط، سیاحت، ہنرمند افرادی قوت، زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے
یونانی سفیر کی صدرلاہورچیمبر آف کامرس سے ملاقات، پاک یونان تجارتی و اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
لاہور۔4ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں یونان کی سفیر ایلینی پوریکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور یونان کے درمیان باہمی تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، بالخصوص کاروباری سطح پر براہِ راست روابط، سیاحت، ہنرمند افرادی قوت، زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر فہیم الرحمن سہگل سے ون آن ون ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور یونان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یونانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے ،دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کو ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں بامعنی اور عملی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی مشنز تجارتی وفود، کاروباری تبادلوں اور روابط کے فروغ میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں، تاہم ٹھوس کاروباری مواقع کی نشاندہی اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے نجی شعبے کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
یونانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور یونان کے درمیان تجارت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ ایک اہم حیثیت رکھتا ہے جبکہ کپاس اور ٹیکسٹائل مصنوعات دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا بڑا حصہ ہیں۔انہوں نے یونان میں پاکستانی کمیونٹی کی مضبوط موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مقیم اور کام کرنے والے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونان میں مختلف شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی نمایاں اور مسلسل طلب موجود ہے، بالخصوص زراعت کے شعبے میں پاکستانی کارکنوں کی ضرورت رہتی ہے، جبکہ الیکٹریشنز، انجینئرز اور دیگر ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے بھی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔یونانی سفیر نے بتایا کہ پاکستانی کارکن یونان میں ضروریات کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ہر سال ہزاروں پاکستانی کارکن یونان آ رہے ہیں۔سیاحت اور ثقافتی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر نے لاہور میں جاری ترقیاتی اور بحالی کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ 2010 کے لگ بھگ اپنے سابقہ دورہ پاکستان کے مقابلے میں انہوں نے لاہور کے مرکزی علاقوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی ہے۔
انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات تلاش کرنے میں بھی دلچسپی کا ا ظہار کیا۔ ایلینی پوریکی نے کہا کہ یونان سیاحتی انفراسٹرکچر کے شعبے میں قابلِ قدر مہارت رکھتا ہے اور متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط قائم کرکے باہمی مفاد کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور یونان کو زراعت، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ مواقع تلاش کرنے چاہئیں جبکہ پاکستانی کاروباری اداروں کو مختلف شعبوں میں یونان کی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور تجربے سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے بالخصوص سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یونان نے سیاحت کے شعبے میں عالمی معیار کی مہارت حاصل کی اور پاکستان اس کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔صدر لاہور چیمبر نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے کاروباری وفود کے تبادلوں اور منظم بی ٹو بی ملاقاتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ کاروباری افراد کو مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے کے براہِ راست مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔








