وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے برآمد و درآمد کنندگان کو بندرگاہ سے متعلق تمام خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے کیلئے بحری آسان خدمت مرکز قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔انہوں نے یہ تجویز بندرگاہوں سے متعلق مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔
برآمد و درآمد کنندگان کیلئے بحری آسان خدمت مرکز قائم کیا جائے گا، وفاقی وزیر بحری امور

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے برآمد و درآمد کنندگان کو بندرگاہ سے متعلق تمام خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے کیلئے بحری آسان خدمت مرکز قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔انہوں نے یہ تجویز بندرگاہوں سے متعلق مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔وزارت بحری امور کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ مرکز میں متعلقہ اداروں کے نمائندے ایک ہی مقام پر موجود ہوں گے، جہاں کاروباری افراد کو مختلف دفاتر کے چکر لگائے بغیر بندرگاہوں سے متعلق متعدد خدمات دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہر متعلقہ ادارہ کاروباری افراد کی معاونت کیلئے ایک فوکل پرسن مقرر کرے گا، جبکہ مرکزی دفاتر سے منسلک مربوط نظام کے ذریعے درخواستوں اور کیسز پر کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کی پیش رفت بھی مانیٹر کی جاسکے گی۔محمد جنید انوار چوہدری کے مطابق اس اقدام سے ٹرکنگ، کنٹینرز، سٹوریج، ڈیمریج، جہازوں کی تاخیر اور انتظامی امور سے متعلق اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے، جس سے کاروباری اداروں، درآمد و برآمد کنندگان اور بندرگاہی خدمات استعمال کرنے والے کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ طریقہ کار کو یکساں بنانے سے فیسوں کی وصولی بہتر بنانے اور مالی بے ضابطگیوں میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی، جبکہ تجارتی حجم میں اضافے سے بندرگاہی خدمات، کارگو ہینڈلنگ، کسٹمز سے متعلق سرگرمیوں اور لاجسٹکس کے ذریعے اضافی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ خدمت مرکز کا مقصد بحری شعبے سے متعلق اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا، طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کرنا اور بین الاقوامی تجارت سے وابستہ کاروباری افراد کیلئے بندرگاہی خدمات تک رسائی آسان بنانا ہے۔انہوں نے مرکز کے ڈھانچے اور طریقہ کار سے متعلق تجاویز حاصل کرنے کیلئے سرکاری محکموں اور بحری شعبے سے وابستہ شراکت داروں کا اجلاس طلب کرلیا۔
اجلاس میں وزارت بحری امور، کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، گوادر پورٹ، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور کورنگی فش ہاربر کے حکام کے علاوہ بینکوں، شپنگ لائنز، کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایجنٹس، فشریز ایسوسی ایشنز اور نجی شعبے کے دیگر نمائندے شرکت کریں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی اور ان کی سفارشات کو مجوزہ منصوبے میں شامل کیا جائے گا تاکہ آسان خدمت مرکز برآمد اور درآمد کنندگان کی عملی ضروریات پوری کرسکے۔








