وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پمز ہسپتال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں آتشزدگی کے بعد ایچ وی اے سی نظام کی بحالی اور دیگر تکنیکی امور کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پمز ہسپتال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں آتشزدگی کے بعد ایچ وی اے سی نظام کی بحالی اور دیگر تکنیکی امور کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پمز ہسپتال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت، پمز انتظامیہ اور سی ڈی اے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں آتشزدگی کے بعد ایچ وی اے سی نظام کی بحالی اور دیگر تکنیکی امور کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔سی ڈی اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آتشزدگی کے باعث متاثرہ عمارت میں ایچ وی اے سی سے متعلق کام تعطل کا شکار ہے جبکہ سانحے کی تحقیقات کے باعث عمارت عارضی طور پر بند ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سیکرٹری صحت کو متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ عمارت کو دوبارہ کام کے لئے ہینڈ اوور کرنے کی ٹائم لائن طے کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر کے ایچ وی اے سی نظام کی بحالی کا کام بلا تاخیر دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ ہسپتال کی طبی سہولیات معمول کے مطابق بحال ہو سکیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے خاتمے کے بعد سرپلس پول میں موجود موزوں انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ موزوں انجینئرز اور تکنیکی عملے کی پمز میں تعیناتی کے لئے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھا جائے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سرپلس پول میں موجود موزوں انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور متعلقہ عملے کو پمز ہسپتال میں تعینات کیا جائے تاکہ ہسپتال میں تکنیکی افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ مریضوں اور نومولود بچوں کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

 

مزید خبریں