وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن سے متعلق زیر سماعت مقدمات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کا رپوریشن کی بندش کے عمل کے ساتھ ساتھ تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کا رپوریشن (پاسکو) اور یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے عمل میں …
وفاقی وزیر خزانہ کی زیرصدارت اجلاس، پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش پر پیش رفت کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن سے متعلق زیر سماعت مقدمات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کا رپوریشن کی بندش کے عمل کے ساتھ ساتھ تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کا رپوریشن (پاسکو) اور یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے عمل میں پیش رفت اور اس عمل کی تکمیل کے لیے درکار باقی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں کہی ۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیرکوہونے والے اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن کی بندش کے عمل میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں منظور شدہ ملازمین کے سیورنس پیکیج پر عملدرآمد، تصدیق شدہ وینڈر واجبات کی ادائیگی، سٹاک کی واپسی اور تلفی جبکہ اثاثوں اور املاک کے انتظام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملازمین کو ادائیگیوں اور تصدیق شدہ واجبات کی ادائیگی کے معاملے میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے اوراس مقصد کے لیے ضروری آڈٹ اور تصدیقی نظام بھی وضع کر دیئے گئے ہیں۔ ملازمین اور دیگر متعلقہ کلیمز کی درست شناخت اور تصدیق یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور معاون دستاویزات سمیت مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
اجلاس کوبتایاگیا کہ وینڈرز کے واجبات کی ادائیگی میں بھی خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ تصدیق شدہ کلیمز کی جانچ پڑتال مکمل کرکے ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے بعد باقی ماندہ سٹاک کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ برانڈڈ اور دیگر اشیائے خورونوش کی بڑی مقدار واپس کی جا چکی ہے یا مقررہ طریقہ کا ر کے تحت تلف کر دی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ سٹاک کو بھی ضابطے کے مطابق نمٹانے کا عمل جاری ہے۔ اجلاس میں ریکس اور دیگر منقولہ اثاثوں کی نیلامی کے حوالہ سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آئی ٹی آلات اور گاڑیوں کی صورتحال بھی زیر غور آئی اور بتایا گیا کہ ان کے تصرف یا منتقلی کے لیے آڈٹ اور تصدیقی عمل جاری ہے۔ اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے اثاثوں کی نیلامی یا منتقلی کے لیے مناسب انتظامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن سے متعلق زیر سماعت مقدمات کا بھی نوٹس لیا اور ان مقدمات کو نمٹانے اور قانونی معاملات کو موثر انداز میں دیکھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کا رپوریشن کی بندش کے عمل کے ساتھ ساتھ تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔ اجلاس میں پاسکو کی بندش کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں موجود سٹاک کی صورتحال اور باقی ماندہ امور کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے انتظامات شامل تھے۔
اجلاس میں مختلف صوبوں میں موجود پاسکو کے سٹاک سے متعلق امور پر بھی زیرغورآئے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متعلقہ صوبوں کی ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سٹاک کی منتقلی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے صوبائی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ اور موثر تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کی وجہ سے دونوں اداروں کی مجموعی بندش کا عمل تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بندش کے عمل میں پیش رفت کی رفتار برقرار رکھنے اور باقی ماندہ کا م کو واضح ذمہ داریوں اور قابل عمل مدت کے تعین کے ساتھ مربوط انداز میں مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ دونوں اداروں کی بندش کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے جبکہ سرکاری وسائل کا تحفظ اور ہر مرحلے پر شفافیت یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں وفاقی سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار، پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کا رپوریشن کے نمائندوں سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








